BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 April, 2006, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرالا، دوسرے مرحلے کی پولنگ

کیرالا
کیرالا اسمبلی کے انتخابات اس بار تین مرحلوں میں مکمل ہوں گے
ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالا میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیئے آج ہفتہ کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ ان انتخابات کے لیئے سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں۔

ریاست میں کانگریس کے زیرقیادت حکمراں یو ڈی ایف یعنی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ اورمارکسی کمیونسٹ پارٹی کے قیادت والے لیفٹ ڈیموکریٹک محاذ (ایل ڈی ایف) کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

اس مرحلے میں مسلم اکثریت والے علاقوں میں بھی پولنگ ہورہی ہے جن کے ووٹوں پر دونوں محاذوں کی نظریں لگی ہوئي ہیں۔

صبح کے وقت پولنگ مراکز پرقدرے کم گہما گہمی تھی اور تھوڑی دیر بعد ہی بیشتر پولنگ اسٹیشن پر رائے دہندگان کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ صبح کے وقت ہی لمبی قطاروں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ اس مرحلے میں رائے دہندگان بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں گے۔

سۃر سالہ پدیمّا نے ووٹ ڈالنے کے بعد بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ وہ تبدیلی چاہتی ہیں۔’میرے دل کی بات یہ ہے کہ میں زندگی میں بھی تبدیلی چاہتی ہوں لیکن یہ میں نہیں کہہ سکتی کہ میری امیدیں پوری ہوں گی یا نہیں‘۔

ووٹ ڈالنے کے بعدایک نوجوان نے کہاکہ وہ کسی پر بھروسہ کرکے ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ ’میں نےاپنا کام کردیا ہے اوراب یہ دیکھنا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں کتنی حد تک نبھاتے ہیں‘۔

ایک سو چالیس رکنی کیرالا اسمبلی کے انتخابات اس بار تین مرحلوں میں پورے کیئے جارہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں چھ ضلعوں کی 66 نشستوں کے لیے انتخاب ہورہا ہے۔ اس میں کالی کٹ، ارناکلم، وائناڈ، پالگھاٹ، تریچو اور مالاپلّم جیسے شمالی اضلاع شامل ہیں۔ ان 66 نشستوں کے لیئے کل چار سوسینتیس امیدوار میدان میں ہیں۔

کمیونسٹ رہنما اور بایاں محاذ کے لیڈر اچوتا نندن ملّم پوڑا حلقے سےانتخابی میدان میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اگر بایاں محاذ کامیاب ہوا تو ریاست کی اگلی حکومت کی باگ ڈور اچوتا نندن کے ہاتھ میں ہوگي۔

مسلم اکثریت والے علاقے ملاپلّم سے انڈین مسلم لیگ کے رہنما کنہیا علی کٹّی انتخابی میدان میں ہیں جن کے خلاف انہیں کی جماعت کے ایک سابق رکن جلیل کٹّی انتخاب لڑرہے ہیں۔ بایاں محاذ نے مسٹر جلیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور چونکہ اس بار جماعت اسلامی بھی بایاں محاذ کی حامی ہے اس لیئے اس مرحلے کے انتخابات پر سبھی کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

ریاست کےایک سینیئر وزیر کے وی تھامس ایرونا کلم سے انتخابی میدان میں ہیں۔ سابق وزیر اعلٰی کے کرنا کے بیٹے مرلی دھرن کی بھی قسمت کا فیصلہ ہفتہ کو ہی ہوجائے گا۔ سابق مرکزی وزیر او راجہ گوپال ملاپلّم سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امید وار ہیں۔ کیرالا میں بی جے پی نے اب تک کسی بھی انتخابات میں ایک بھی سیٹ نہیں جیتی ہے لیکن اس بار راجہ گوپال نئی تاریخ رقم کرنے کی پوری کوشش میں لگے ہیں۔

ملاپلپم اور کالی کٹ میں مسلمان ایک بڑی تعداد میں ہیں اور روایتی طورپر یہاں کانگریس کی ایک حلیف جماعت انڈین مسلم لیگ کو کامیابی ملتی رہی ہے۔ لیکن اس بار مسلم تنظیموں میں اختلافات کے سبب ملا پلّم میں بایاں محاذ سے مقابلہ کافی سخت ہے۔

پہلے مرحلے کے لیئے جنوبی کیرالہ کے چھ ضلعوں کی انسٹھ سیٹوں کے لیےگزشتہ بائیس تاریخ کو پولنگ ہوئی تھی۔ پہلے مرحلے میں وزیراعلٰی اومن چانڈی سمیت ان کی کابینہ کے گیارہ ارکان میدان میں تھے۔

آخری مرحلے کے انتخابات تین مئی کو ہوں گے جس میں پندرہ نشستوں کے لیئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد