’جوہری پروگرام متاثر نہیں ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کو ایک بار پھر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہند۔امریکہ جوہری معاہدے کی وجہ سے ہندوستان کا فوجی جوہری پروگرام متاثر نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نے یہ بات ایوان میں جوہری معاہدے پر ایک بحث کے دوران کہی۔ اس معاہدے پر خود حکمران جماعت کی اتحادی بائیں بازوں کی جماعتوں اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت اعتراضات کیئے ہیں۔ منموہن سنگھ نے کہا’یہ معاہدہ غیر فوجی جوہری تعاون کے لیئے ہے اور ہم نے امریکہ ہی نہیں بلکہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ بھی اپنے فوجی جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں کی ہے‘۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا’اس معاہدے کے سبب ہندوستان کا فوجی جوہری پروگرام کسی بھی طرح بین الاقوامی نگرانی کے تحت نہیں آئےگا‘۔ وزیراعظم نے اس معاہدے کی مزید حمایت کرتے ہوئے کہا ’حکومت ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھائےگی جس سے ملک کے جوہری توانائی کے شعبے کی طاقت اور ترقی کے لیئے تحقیقات میں مصروف سائنس دان متاثر ہوں‘۔ معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے رہنما لعل کرشن اڈوانی نے کہا ’ اس معاہدے سے ملک کی فوجی جوہری طاقت ختم ہو سکتی ہے‘۔ امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی جانب سے منظوری کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر جارج بش پیر کو رات گئے اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ اس معاہدے کے بعد ہندوستان جوہری ایندھن کی خریداری کر سکے گا جس پر گذشتہ تین عشرے سے پابندی عائد ہے۔ | اسی بارے میں ’خارجہ پالیسی کسی دباؤ میں نہیں‘12 December, 2006 | انڈیا ہند امریکہ جوہری معاہدے پر مخالفت11 December, 2006 | انڈیا ’بل کی منظوری، ملک کی بے عزتی‘10 December, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ: برنس دلی میں07 December, 2006 | انڈیا ’اپنے مفادات کا خیال رکھیں گے‘17 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||