BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 December, 2006, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جوہری پروگرام متاثر نہیں ہوگا‘

صدر بش اور منموہن سنگھ
صدر بش پیر کی رات جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں
بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کو ایک بار پھر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہند۔امریکہ جوہری معاہدے کی وجہ سے ہندوستان کا فوجی جوہری پروگرام متاثر نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے یہ بات ایوان میں جوہری معاہدے پر ایک بحث کے دوران کہی۔ اس معاہدے پر خود حکمران جماعت کی اتحادی بائیں بازوں کی جماعتوں اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت اعتراضات کیئے ہیں۔

منموہن سنگھ نے کہا’یہ معاہدہ غیر فوجی جوہری تعاون کے لیئے ہے اور ہم نے امریکہ ہی نہیں بلکہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ بھی اپنے فوجی جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں کی ہے‘۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا’اس معاہدے کے سبب ہندوستان کا فوجی جوہری پروگرام کسی بھی طرح بین الاقوامی نگرانی کے تحت نہیں آئےگا‘۔

وزیراعظم نے اس معاہدے کی مزید حمایت کرتے ہوئے کہا ’حکومت ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھائےگی جس سے ملک کے جوہری توانائی کے شعبے کی طاقت اور ترقی کے لیئے تحقیقات میں مصروف سائنس دان متاثر ہوں‘۔

معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے رہنما لعل کرشن اڈوانی نے کہا ’ اس معاہدے سے ملک کی فوجی جوہری طاقت ختم ہو سکتی ہے‘۔

امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی جانب سے منظوری کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر جارج بش پیر کو رات گئے اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ اس معاہدے کے بعد ہندوستان جوہری ایندھن کی خریداری کر سکے گا جس پر گذشتہ تین عشرے سے پابندی عائد ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد