’خارجہ پالیسی کسی دباؤ میں نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے کہا ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی کسی دباؤ میں نہیں بلکہ ملک کے مفاد کی مناسبت سے طے کی جا تی ہے اور اس کا اختیار صرف ملک کے اقتدار اعلی کو ہے۔ بھارت امریکہ جوہری معاہدے کے بارے میں حزب اختلاف اور بعض اتحادی جماعتوں نےگہرے اندیشے ظاہر کئے ہیں۔ مسٹر مکھرجی نے انہی اندیشوں کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کسی غیر ملک کو اپنے فوجی پروگرام کی جانچ یا مداخلت کی اجازت نہیں دیگا۔ انہوں نے کہا ’اس بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ ہمارا فوجی پروگرام کسی طرح کے معاہدے یا بات چیت کے دائرے سے باہر ہے۔‘ بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ہند امریکہ معاہدے کو مسترد کر دے اور معاہدے کی ’ہتک آمیز‘ شرطوں کو فبول نہ کرے ۔ سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس معاہدے سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی آزادی متاثر ہو گی ۔’ہندوستا ن کو نہ صرف ایران کے معاملے میں امریکی پا لیسی پر عمل کرنا ہوگا بلکہ اس جوہری تعاون کے معاہدے سے پوری خارجہ پالیسی ہی امریکہ کی تابع ہو کر رہ جا ئے گی۔‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جس طرح کی اضافی شرائط عائد کی گئی ہیں ان کے تحت ہندوستان کو مستقبل میں کسی طرح کے بھی جوہری تجر بے کرنے کی ممانعت ہو جائے گی۔ یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے علاوہ امریکہ بھی ہندوستان کی ایٹمی تنصیبات کی جانچ کرنے کا مجاز ہوگا ۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے بھی اسی طرح کے اندیشے ظاہر کیے ہیں اور پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ’ ہم اپنے تین مرحلے کے جوہری پروگرام اور تحقیق و ترقی کی آزادی اور فوجی پروگرام کے مکمل تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری سے نیو کلیائی تعاون حاصل کریں گے۔‘ مسٹر مکھرجی نے حزب اختلاف کے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے قطعی طور پر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاہدے میں 18 جولائی اور 2 مارچ کے مشترکہ بیانات میں طے پائے تمام پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ’ہمارا مقصد اس نظام کو ختم کرنا ہے جس کے تحت ہندوستان کو اتنے عشروں تک جوہری ٹکنالوجی سے محروم رکھا گیا تاکہ اب ہماری قومی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔‘ ہند امریکہ معاہدے پر اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں بحث ہو گی ۔ |
اسی بارے میں جوہری پروگرام آزاد ہے: منموہن سنگھ18 August, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ: برنس دلی میں07 December, 2006 | انڈیا ’بل کی منظوری، ملک کی بے عزتی‘10 December, 2006 | انڈیا ہند امریکہ جوہری معاہدے پر مخالفت11 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||