BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 December, 2006, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدہ: برنس دلی میں
 نکولس برنس
امریکہ تین عشرے میں پہلی بار ہندوستان کو غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی فروخت کر سکے گا
امریکی وزارت خارجہ کے اعلی اہلکار انڈر سیکریٹری نکولس برنس جوہری تعاون کےمعاہدہ پر بات چیت کے لیے دلی پہنچ گئے ہیں۔

نکولس برنس ہندوستان کے خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن اور دوسرے اعلی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس اہم معاہدہ کے بعد امریکہ تین عشرے میں پہلی بار ہندوستان کو غیر فوجی جوہری ٹیکنا لوجی فروخت کر سکے گا۔

امید ہے کہ جلد ہی امریکی کانگریس اس معاہدے کو منظوری دے دےگی۔

ہند امریکہ جوہری معاہدہ کے ناقدین کو ڈر ہے کہ اس معاہدے سے جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

امریکی سینٹ، اور امریکی کانگریس کے ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان، اس متنازعہ بل کو پہلے ہی منظور کر چکے ہیں۔

سینٹ اور ایوان نمائندگان میں منظوری کے لیے الگ الگ بل کو ایک مشترکہ بل میں تبدیل کیا جائے گا۔ صدر جارج بش کی منظوری کے بعد ہی یہ بل فانونی شکل اختیار کرے گا۔

انڈیا کو توانائی کی شدید ضرورت ہے
نامہ نگاروں کے مطابق ہندوستان کو توانائی کی شدید ضرورت ہے اور اس معاہدے کے بعد ہندوستان کو امریکہ کی جوہری غیر فوجی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل ہو جائےگی اور اس کے بدلے وہ اپنی بیشتر جوہری تنصیبات غیر ملکی معائنے کے لیے کھول دے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہد ے کو قانونی حیثت ملنے سے امریکہ کی جوہری عدم توسیع کی پالیسی میں زبردست تبدیلی آجائے گی۔

نامہ نگاروں کے مطابق ہندوستان کو توانائی کی شدید ضرورت ہے اور اس معاہدے کے بعد ہندوستان کو امریکہ کی جوہری غیر فوجی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل ہو جائےگی اور اس کے بدلے وہ اپنی بیشتر جوہری تنصیبات غیر ملکی معائنے کے لیے کھول دے گا۔

لیکن دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی میں تعاون شروع ہونے سے قبل کئی رکاوٹیں ہیں۔

ہندوستان کو جوہری خریداری کے لیے سازوسامان درآمداد کرنے والے ملکو ں یعنی نیو کلیر سپلائر گروپ سے معاہدہ کی منظوری لینی پڑے گی۔

ہندوستان کی دو کمپنیوں کی جانب سے ایران کو میزائل ٹیکنالوجی فراہم کیے جانے پر بھی امریکہ میں تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ امریکی حکومت نے حال میں ان کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ہند امریکہ جوہری معاہدہ مارچ میں امریکی صدر جارج بش کے دورے کے دوران طے پایا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد