BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 04:51 GMT 09:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیاامریکہ، جوہری معاہدہ منظور
 بھابھا
انڈیا کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود امریکی ایٹمی ایندھن اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے 68 کے مقابلے میں 359 ووٹوں کی اکثریت سے انڈیا کے ساتھ سویلن مقاصد کے ایک جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔





گزشتہ برس اسی تاریخ کو دونوں ملکوں کے درمیان سویلن مقاصد کے ایک جوہری معاہدے پر سمجھوتہ ہوا تھا۔

امریکہ اور انڈیا کے درمیان اس معاہدے پس صدر بش کے دورۂ انڈیا کے دوران دستخط ہوئے تھے۔

اس معاہدے کے تحت انڈیا کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود امریکی ایٹمی ایندھن اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔

انڈین وزیر اعظم منموہن سنگھ چند روز قبل کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے میں کوئی نئی شرط قبول نہیں کی جائےگی۔ جب کہ امریکہ نے یقین دلایا تھا کہ اس معاہدے کو ہر ممکنہ حد تک شفاف بنایا جائےگا۔

وزیراعظم منموہن سنگھ نےگزشتہ برس امریکہ کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ہم ایسی کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کریں گے جو اٹھارہ جولائی کے مشترکہ بیان کے مطابق نہ ہو۔‘

صدر بش نے دورۂ بھارت کے دوران اس معادے پر دستخط کیئے تھے

اس سے قبل انڈیا کے سیکریٹری خارجہ شیام سرن نے امریکہ کےقانوں ساز اداروں سے اپیل کی تھی کہ وہ جوہری معاہدے کی اس کی موجودہ شکل میں حمایت کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس معاہدے میں مزید تبدیلیوں سے پورا عمل سست روی کا شکار ہوجائے گا۔

شیام سرن نے کہا تھا کہ ’اگر یہ معاہدہ لڑ کھڑایا تو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے رشتوں کے ایک حصے کے طور پر دیکھنا چاہیئے۔

معاہدے کی حمایت میں آنے والے ووٹوں کی تعداد ے ظاہر کہ ڈیموکریٹک اور ریپبلیکن دونوں نے اس معاہدے کی حمایت کی ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی اردو کے شاہزیب کا کہنا ہے کہ وہ 68 ارکان جو اس میں ترمیم لانا چاہتے تھے یہ موقف رکھتے ہیں کہ اس وقت عالمی سطح پر جب امریکہ ایران اور شمالی کوریا کو ایٹمی پھیلاؤ سے روکنا چاہتا ہے تو کسی اور ملک کے ساتھ امتیاز کیسے برتا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے ایٹمی عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شاہزیب کے مطابق اب جب کہ ایوانِ نمائندگان اور اس سے پہلے دونوں ایوانوں کے لیئے امورِ خارجہ کی کمیٹیاں اس بل کی منظوری دے چکی ہیں ایسے آثار دکھائی نہیں دیتے کہ اس بل کو سینیٹ میں کسی رکاوٹ کا سامنا ہو گا تاہم اس کی نظوری میں کچھ وقت لگے گا کیونکہ اگست میں تعطیلات کی وجہ سے اجلاس نہیں ہوگا اور اس کے بعد اس منظوری ستمبر کے اجلاس ہی میں ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد