غربت کا خاتمہ ایک چیلنج: منموہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے ساٹھویں یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت صحیح معنوں میں اس وقت آزاد اور خودمختار ہو گا جب ملک میں غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ دلّی کے لال قلعے میں آج یومِ آزادی کی تقریب کے آغاز پر منموہن سنگھ نے عین اسی مقام پر پرچم کشائی کی جہاں سے 1947 میں برطانوی جھنڈے کو ہمیشہ کے لیے اتارا گیا۔ پرچم کشائی کے دوران توپوں کی سلامی دی گئی اور قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔ بھارتی جھنڈے کے رنگوں والے سینکڑوں غباروں کو بھی ہوا میں چھوڑا گیا۔ یومِ آزادی کی اس تقریب میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے بھارت کی آزادی کے لیے لڑنے والے تمام رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ساٹھ سال گزرنے کے بعد بھارت معاشی اعتبار سے ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں لیکن اس ترقی کے ثمرات سے بھارتی شہریوں کی محدود تعداد لطف اندوز ہو رہی ہے۔ انہوں نے بھارت کی صحیح معنوں میں آزادی کو غربت کے خاتمے کے ساتھ مشروط قرار دیتے ہوئے کہا: ’ساٹھ سال قبل مہاتما گاندھی کی سوچ اور خیالات سے متاثر ہو کر ہم نے آزادی کا ایک نیا سفر شروع کیا تھا۔ گاندھی کی سوچ کے مطابق صحیح معنوں میں ہمیں آزادی اور خودمختاری اس وقت ملے گی جب ہم غربت سے جان چھڑوا لیں گے‘۔ وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ملک میں سائنس اور پیشہ وارانہ تعلیم کی ترقی کے لیے آئی ٹی، سائنسی تحقیق کے لیے چالیس نئے تعلیمی ادارے کھولے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ووکیشنل اور ہنرمند تعلیم کے فروغ کے لیے 1600 پولی ٹیکنیک اور صنعتی تربیت کے ادارے، 10000 نئے ووکیشنل سکول اور 50000 دیگر ہنرمند شعبوں کی تربیت کے سکول کھولے جا رہے ہیں جہاں پر ایک کروڑ طلباء ووکیشنل تعلیم حاصل کر سکیں گے۔
ایک ارب سے زائد آبادی کے ملک بھارت کی پچاس فیصد آبادی پچیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوان نسل کو تعلیم کے مناسب مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ بھارت کی صدر پرتیبھا پاٹِل نے بھی یومِ آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں ملکی ترقی سے ہر ایک شہری کو فائدہ پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ’اقتصادی ترقی کے ثمرات خاص طور پر ہمارے ان طبقوں تک پہنچنے چاہیئیں جو بڑی تعداد میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں‘۔ اس سے قبل پاکستان کے ساتھ واہگہ بارڈر پر ہونے والے ایک مشترکہ میوزک کنسرٹ میں بھارتی شہریوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ بھارت بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات کو ممکنہ شدت پسند کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ ہوائی گشت بھی کیا جا رہا ہے۔ دلّی میں سرکاری عمارات، سفارتی رہائش گاہوں اور شہر کے دیگر اہم مقامات پر 70000 کے قریب پولیس اور پیراملٹری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ شمالی مشرقی ریاست آسام میں یومِ آزادی کی تقریبات شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے چار دھماکے ہوئے ہیں تاہم کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس نے ان دھماکوں کی ذمہ داری علیحدگی پسند باغی گروپ ’الفا‘ پر عائد کی ہے جس نے ان تقریبات سے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی اکثر علیحدگی پسند گروہوں نے آج کے دن کو یومِ آزادی کی بجائے ’یومِ سیاہ‘ قرار دیا ہے۔ |
اسی بارے میں برصغیر کی سیاست میں عورت کہاں؟13 August, 2007 | انڈیا کاش برصغیر تقسیم نہ ہوتا13 August, 2007 | انڈیا بھارت: ثمرچند طبقوں کے لیے11 August, 2007 | انڈیا ہند پاک مشترکہ جشن آزادی06 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||