BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 16:37 GMT 21:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت: ثمرچند طبقوں کے لیے

ہندوستان کی تقسیم اور اس کے بعد ہونے والے فسادات کو ساٹھ سال گزر جانے کے بعد بھارت نے
مارک ٹلی کئی دہائیوں سے بھارت میں صحافت کر رہے ہیں
جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، اب اقتصادی طور پر ترقی کرنا شروع کر دی ہے۔

انیس سو پینسٹھ میں جب پہلی مرتبہ بھارت آیا تھا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا کہ سفارت کار بھارت سے جاتے وقت اپنا تمام سامان حتیٰ کہ استعمال شدہ لپس ٹک اور جانگیے بھی بیچ جاتے تھے۔ وہ ایسا کیوں کیا کرتے تھے مجھے جلد ہی اس کی وجہ معلوم ہو گئی۔

دکانوں پر صرف بھارت میں تیار کی گئی اشیاء ملتی تھیں جو کہ واضح طور پر غیر معیاری نظر آتی تھیں۔

میں آج بھی بھارت میں بنائے گئے غیر معیاری بلیڈ سے شیو کرنے کی اذیت اور مقامی طور پر کشید کی گئی بیئر سے گلیسرین نکالنے کا طریقہ نہ بھولا۔ بیئر سے گلیسرین نکالنے کے لیے لوگ پہلے بیئر کو بوتل کو اوندھا کرتے تھے جب گلیسرین اوپر آ جاتی تھی تو پھر اسے گلاس میں انڈہلتے تھے۔

لیکن اب میں بھارت میں بنایا گیا بلیڈ بغیر کسی تکلیف کے استعمال کرسکتا ہوں اور مقامی طور پر بنائی گئی بیئر کو سیدھا اپنے گلاس میں ڈال سکتا ہوں۔

اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے کے لیے جب میں کلکتہ پہنچا جہاں میرا بچپن گزرا تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ کبھی بھارت کے تجارتی مرکز کا حامل شہر دھنس رہا ہے۔ ایک برطانوی ٹاؤن پلانر نے کلکتہ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دنیا کا پہلا شہر ہوگا جو کہ مہندم ہو جائے گا۔

برطانوی دور میں بنائی گئی بڑی بڑی عمارتوں پر کائی جم رہی تھی۔ گلارڈ ہاؤس جہاں میرے والد کا دفتر تھا قدرے بہتر حالت میں تھی، لیکن ان کی فرم ویسی نہیں رہی تھی جیسا کہ یہ میرے والد کے دور میں تھی۔

بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ ہے

اب کلکتہ میں خوشحالی کا دور دورہ ہے اور ایئرپورٹ کے راستے میں ایک نیا شہر بسایا جا رہا ہے۔

ایک مرتبہ ٹرین پر سفر کرتے ہوئے میں نے ٹکٹ چیکر سے شکایت کی تھی کہ کرائے میں تیز رفتار ٹرین میں سفر کرنے کے لیے اضافی پیسے لیئے جاتے ہیں لیکن ٹرین تو اتنی تیز رفتار نہیں۔ ٹیکٹ چیکر نے میری تصیح کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’سپرفاسٹ ٹرین ہے‘ لیکن چل یہ آہستہ رہی ہے۔

برس ہا برس بھارت کی معیشت تین فیصد کی شرح سے ترقی کرتی رہی اور اب یہ شرح آٹھ فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ ’سپر فاسٹ‘ نہ سہی تیز تو ہے۔

یہ سب کچھ ’لائسنس پرمٹ راج‘ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد ممکن ہو سکا ہے۔

وہ ایک جکڑا ہوا اقتصادی نظام تھا جس میں مقابلے کی فضا سے مقامی صنعت کو بچائے رکھا۔

اس نظام میں محدود وسائل کو تقسیم کرنے کے نام پر بھارت کی نوکر شاہی اس مقابلے کی فضا سے مقامی صنعت کو بچائے رکھنے کا اختیار رکھتی تھی۔

حکومت کی طرف سے دیئے گئے لائسنس کے بغیر ملک میں کوئی صنعت نہیں لگائی جا سکتی تھی اور صنعت کار اپنی صنعت کو بچانے کے لیے حکومتی اہلکاروں کو رشوت دیتے تھے۔

بھارت نے اپنی صنعت کے گرد تعمیر کردہ حفاظتی دیوار کو انیس سو اکانوے میں گرانا شروع کر دیا جب اس کی معیشت تقریباً دیوالیہ ہو گئی تھی۔ اس وقت بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی طرف سے معیشت کو بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے کھولنے کی شرط پر امداد مہیا کی گئی۔

اس دیوار کے گرنے سے بھارت کے لوگوں کو اپنی صلاحیتیں کو اجاگر کرنے کا موقعہ ملا۔ اس کے بعد ہی امریکہ میں ’بینگلورڈ‘ کی نئی اصطلاح سامنے آئی جس کہ ان امریکیوں کے لیے استعمال ہوتی تھی جن کو بھارتی شہر بینگلور میں آنفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کے ترقی کرنے سے اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

ایک نئے سروے کے مطابق ستر فیصد افراد بیس روپے روزآنہ کی آمدنی پر گزارا کرتے ہیں

کاری سازی کی صنعت سے وابستہ تمام بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کے کارخانہ اب بھارت میں کام کر رہے ہیں اور انہیں ان سے بھرپور منافع حاصل ہو رہا ہے۔

بھارتی کمپنیاں اب بین الاقوامی کمپنیوں کو خرید رہے ہیں اور جس طرح کے سٹیل بنانے والی دنیا کی ایک بڑی کمپنی کوْرس کو بھارت کی کمپنی متل نے خریدا ہے۔

تاہم اب بھی بین الاقوامی کمپنیاں اس بات پر اعتراض کرتی ہیں بھارت میں مقامی صنعت کو حاصل تحفظات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔

بین الاقوامی بینک، انشورنس کمپنیاں، پرچون فروش اور صنعت کار اب بھی شکایت کرتے ہیں کاروبار کرنے کی جس طرح کی آزادی انہیں چین میں حاصل ہے وہ بھارت میں نہیں۔

بھارت کا کہنا ہے کہ اس کے سیاسی اور اقتصادی معروضی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ یہ اپنی معیشت پر کچھ نہ کچھ اختیار برقرار رکھے تاکہ اس کی سمت کا تعین کیا جا سکے۔

پرچون فروشی کا کاروبار اس کی بڑی مثال ہے۔

اس ضمن میں حکومت کے خدشات بجا ہیں کیونکہ اگر ٹیسکو اور وال مارکیٹ جیسی بڑے تجارتی اداروں کو ملک میں اپنے اسٹور کھولنے کی اجازت دے دی جائے اور تو لاکھوں لوگوں کا روز گار تباہ ہو جائے گا اور اس کے بہت بہیانک سیاسی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

بھارت چھوٹے چھوٹے کھیتوں کی سرزمین ہے اور اس کے کسان کو ترقی یافتہ ملکوں کے کسانوں کے مدمقابل کھڑا نہیں کیا جاسکتا جہاں بڑے بڑے فارموں پر ایک ٹریکٹرکے ذریعے ایک آدمی کھیتی باڑی کرتا ہے۔

بھارت کی موجودہ ترقی کی رفتار کا سب سے بڑا منفی پہلو یہ ہے اس نے امیر اور متوسط طبقے کی زندگی کو حیران کن طور پر بدل دیا ہے۔ لیکن شہر اور دیہاتوں میں اب بھی غربت اتنی ہی شدید ہے۔

بہت سے اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے اقتصادی نظام میں کبھی بھی خوشحالی معاشرے کے پسماندہ یا غریب طبقوں تک نہیں پہنچ سکتی اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ تبدیلی حکومت ہی کو لانی ہے جس نے ملک میں لائنس اور پرمٹ کا نظام رائج اور اس کو تحفظ دیا تھا۔

قطع نظر اس کے بھارت کی معاشی ترقی کی رفتار کیا ہے لیکن وہ جو اس ترقی میں ایندھن کا کام کررہے ہیں ان کو اس میں کوئی حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پانچویں بڑی معیشت
بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن سکتا ہے
ریکارڈ شرح ترقی
نو اعشاریہ دو فیصد شرح ترقی کی امید: انڈیا
معیشت اور مسلمان
ترقی کے عمل میں انڈین مسلم پیچھے رہ گئے
تصویر: بیرون ملک بسنے والے بھارتیوں کا اجلاسبیرون ملک بھارتی
بھارت واپسی کا فیصلہ مشکل ثابت ہورہا ہے
 حنا لیاقتانڈیا: مسلم خواتین
مسلم سماج میں خواتین کی ترقی کی رفتار سست
اسی بارے میں
مسلم خواتین کی سست رفتار
08 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد