بھارت واپسی کا فیصلہ آسان نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت ایک بڑا جہاز ہے، اس سے پرواز کرنے والے پرندے اب بےچین ہیں، انہیں کہیں چین نہیں ملتا، وہ بار بار واپس لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ پرندے یوں ہی نہیں اڑے تھے، کئی وجوہات تھیں: اچھی آمدنی، بہتر رہائش اور خوبصورت طرز زندگی کی امید۔ لگتا تھا کہ اگر یہ تین چیزیں مل گئیں، تو سب دکھ دور ہوجائیں گے۔ لیکن اب انہیں بھارت کا سُکھ دکھ دے رہا ہے۔ غلط مت سمجھیے: روپیے کی کم ہوتی قیمت سے ’بہتر ایکسنج ریٹ‘ پر خوش ہونے والے بیرون ملک بسنے والے بھارتیوں پر رحم کیجیے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ جس بھارت کو چھوڑ کر جارہے ہیں اس کے دن اس طرح پھِرنے والے ہیں کہ ڈالر اور پاؤنڈ کو چھوڑیے ان کے دوست روپیے میں ہی ان سے بہتر تنخواہیں حاصل کررہے ہیں، بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ بھارت میں شاپِنگ مال ہیں، کاریں ہیں، ملٹِپلیکس، جدیدترین فلیٹس ہیں، آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم جیسے مینجمنٹ کی تعلیم کے ادارے، بچوں کے لیے بہترین سکول ہیں، سوپر اسٹور بھی کھل گئے ہیں۔ جیب میں پیسہ ہو تو کیا یورپ اور کیا انڈیا۔
ٹاٹا، ریلائنس اور وِپرو تو اب گورے لوگوں کو بھی نوکریاں دے رہی ہیں۔ اور اگر ہنر ہو تو بھارت میں شاید زیادہ پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ کچھ سال پہلے تک اگر آپ انجینیئر تھے تو بھیل، گیل اور سیل جیسی بڑی کمپنیوں میں کام کرنے جاتے یا آئی آئی ٹی جیسے ٹیکنالوجی کے اعلیٰ اداروں میں تربیت حاصل کرتے اور کورس یا آرسلر میں کام کرنے کے لیے بیرون ملک چلے جاتے۔ لیکن اب تو مِتل، جِندل، سنِگھل اور ٹاٹا اور بِڑلا ان کمپنیوں کو ہی خرید رہے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر میں کامیابی کے لیے آپ کو بیرون ملک بسنے کی ضرورت نہیں، اگر فارن ایکسنج اہم لگتا ہے تو آج کون سی ایسی بھارتی کمپنی ہے جو اپنے ملازمین کو بیرون ملک نہیں بھیجتی؟ گزشتہ انتخابات میں جب بی جی پی والے سہرسہ، ستنا اور باڑمیر جیسے دیہی علاقوں میں ’انڈیا شائننگ‘ کی بات کررہے تھے تو لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا لیکن جب یہی بات بش اور بلیئر بنگلور، ممبئی اور دلی میں کرتے ہیں تو اس کا گلابی اثر ہوتا ہے۔
ٹھیک ہے بھارت میں مواقع ہیں اور پیسہ بھی۔ لیکن ایک سوال ضرور اٹھتا ہے: دھول، گرمی، مکھی، گندگی، کرپشن، بدنظمی کا کیا کریں؟ بی بی سی ہندی ڈاٹ کام کے ای سروے میں جب بھارت واپس جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو چالیس فیصد سے زیادہ رائے دہندگان نے کہا: ’واپس جانا تو چاہتے ہیں لیکن وہاں بسنا بہت مشکل ہے۔‘ لیکن ہر شخص ’آ اب لوٹ چلیں‘ والے موُڈ میں ہو یہ ضروری نہیں ہے۔ بیرون ملک بھارتیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ’سِسٹمیٹِک طریقے‘ سے رہنے کی عادت پڑگئی ہے اور بھارت میں کافی ترقی ہوسکتی ہے لیکن بدنظمی ختم نہیں ہوسکتی۔ ان کا خیال ہے کہ پیسہ اور روزگار کے مواقع سب کچھ نہیں، زندگی میں سکون بھی اہم ہے۔ ’ہم تو بھارت میں رہ بھی لیں گے، لیکن بچوں کا کیا جو مغرب میں رہنے کے عادی ہیں؟‘ ان کے لیے بھارت سے پرواز کرکے چلے جانے کا فیصلہ کرنا بہت آسان تھا لیکن اب واپس جانے کا فیصلہ اتنا آسان نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||