BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 December, 2006, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک و ہند تعلقات: نشیب و فراز کا سال

مشرف اور منموہن
عین ممکن ہے کہ آئندہ برس ہند پاک تعلقات کی تاریخ کا شاید اہم ترین برس ثابت ہو
سال 2006 پاکستان اور ہندوستان کے درمیان رشتوں کے لیے ایک بار پھر امتحان کا برس رہا۔

سال کا آغاز کشمیر کے حل سے متعلق پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی اس تجویز سے ہوا کہ کشمیر میں کشییدگی کم کرنے کے لیے تین اضلاع سے ہندوستان اپنی فوجیں ہٹالے لیکن یہ تجویز زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔

دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کے تیسرے دور کی بات چیت دلی میں سترہ اور اٹھارہ جنوری کو ہوئی۔ خارجہ سیکرٹری کی سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں اعتماد سازی کے کئي نئے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔

مارچ کے اوائل میں بنارس کے ایک مندر پر شدت پسندوں نے حملہ کیا اور ایک بار پھر ان حملوں کے ليے پاکستان میں موجود بعض شدت پسند تنظیموں کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔

تاہم چودہ مارچ کو وزیراعظم منموہن سنگھ نے پارلیمنٹ میں ایک بیان میں کہا’شدت پسندوں کی طرف سے رخنوں کے باوجود ہم اپنے پڑوسی سے تعلقات بہتر بنانے کا عمل جاری رکھیں گے‘۔ پاکستان نے بنارس دھماکے کی شدید مذمت کی۔

بھارت نے بنارس دھماکے کا الزام پاکستان پر لگایا

مئی کے اوائل میں دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوئے اور سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان ٹرک سروس اور پونچھ اور راولا کوٹ کے درمیان جون سے بس سروس شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس تمام بات چیت اور مذاکرات کے باوجود صحیح معنوں میں پیش رفت ہوتی محسوس نہیں ہو رہی تھی اور ہندوستان کی حکومت بات چیت میں سست روی کے حوالے سے کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی کا نشانہ بن رہی تھی۔

مئی میں منموہن سنگھ نے امرتسر ننکانہ صاحب بس سروس کا افتتاح کرتے ہوئے پاکستان کو دوستی اور امن کے ایک معاہدے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’سرحدیں تو نہیں بدلی جا سکتیں لیکن انہیں بےمعنی بنایا جا سکتا ہے‘۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالات بدل رہے تھے، کشیدگی میں کمی آ چکی تھی اور جولائی میں اگلے دور کے مذاکرات کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ اچانک گیارہ جولائی کو ممبئی کی کئی مقامی ٹرینوں میں ایک ساتھ دھماکے ہوئے جس میں دو سو سے زیادہ جانیں گئیں۔ مسٹر سنگھ نے ان دھماکوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا اور کہا’بغیر پاکستان کی مدد سے اس نوعیت کے سنگین دھماکے اتنے منظم طریقے سے نہیں کیے جا سکتے‘۔

پاکستان نے ان دھماکوں کی شدید مذمت کی اور اسے بربریت کا عمل قرار دیا۔ صدر پرویز مشرف نے تفتیش میں تعاون کی پیشکش کی جو ہندوستان نے قبول نہیں کی اور کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچنے لگی۔

ستمبر میں ہوانا میں غیر وابستہ ملکوں کے سربراہی اجلاس میں پاکستانی صدر مشرف اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی ملاقات سے جمود ٹوٹنے میں مدد ملی۔ صدر مشرف نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے ليے ایک مشترکہ نظام بنانےکی تجویز پیش کی جو آگے چل کر بات چیت کا حصہ بنی۔

بارہ سے پندرہ نومبر کے درمیان دلی میں خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان دوبارہ بات چیت شروع ہوئی۔ کشیدگی ختم ہوئی لیکن مذاکرات پر 11 جولائی کے دھماکوں کا سایہ رہا۔

ہوانا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے جمود ٹوٹنے میں مدد ملی

پاکستان کے خارجہ سیکریڑی ریاض محمد خان نے پاکستان پر الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا’ آپ نے 15 منٹ میں یہ کیسے پتہ لگایا کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔میرا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہی ایسی تفتیشی صلاحیت ابھی نہیں آئی ہے۔ یہ صرف الزام تراشی ہے‘۔

ادھر ہندوستان پاکستان پر الزام لگانے کے باوجود کسی طرح کا ثبوت دینے سے قاصر رہا تاہم خارجہ سیکریڑی شیو شنکر مینن نے کچھ دستاویزات بعض دیگر معاملات کے سلسلے میں ضرور پاکستان کے حوالے کیں۔

ابھی بات چیت کا عمل مکمل ہی ہوا تھا کہ صدر مشرف نے ہندوستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیےگئے ایک انٹرویو میں کشمیر کے حل کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کر دی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان اس حل سے اتفاق کر لے تو پاکستان کشمیر پر اپنے دعوے سے دستبردار ہو جا‎ ئیگا۔

دسمبر کے اوائل میں پاکستان کے دفترِخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے یہ بیان دے کر ہلچل مچا دی کہ کشمیر پر پاکستان کا کبھی دعوٰی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ’پاکستان نے کبھی نہیں یہ کہا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے‘۔

’پاکستان نے کشمیر پر اپنے دعوے سے ہاتھ کھینچے کی پیشکش بھی کی

6 دسمبر کو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے صدر مشرف کی تجویز کا باقاعدہ طور پر خیر مقدم کرتے ہو‎ئے کہا’ کوئی بھی تجویز جس سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو اور جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہوں ہم اس کا خیر مقدم کریں گے‘۔

سنہ دو ہزار چھ جس کا آغاز صدر مشرف کی ڈی ملٹرائریزیشن کی تجویز سے ہوا تھا، کشمیر کے حل کے لیے انہی کی چار نکاتی تجویز پر ختم ہوا۔ آئندہ برس پاکستان میں سب سے بڑے جمہوری عمل یعنی انتخابات کا سال ہے اور صدر کی تجاویز ہندوستان کے لیے ہی نہیں خود اپنے ملک میں ان کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں اور عین ممکن ہے کہ آئندہ برس ہند پاک تعلقات کی تاریخ کا شاید اہم ترین برس ثابت ہو۔

فریقین کی شرکت اہم
مذاکرات تینوں فریق کے لیے: میرواعظ
کشمیر بس سروس
ایک سال میں صرف 400 کشمیری سفر کرسکے
geelaniٹوٹ یا اٹوٹ انگ
مسئلہ کشمیر پر کشمیری کیا کہتے ہیں
کشمیری لڑکادھند چھٹنے والی ہے؟
کیا مسئلہ کشمیر حل کے قریب پہنچ گیا ہے؟
گیارہ ستمبر کے بعد
پاکستان، ہندوستان اور کشمیر سیاست
دلی ڈائری
وزارت خارجہ پریشان، منموہن کا دورۂ پاکستان
مشرف: سوشلِسٹ؟
جنرل مشرف پاکستان کو اپنا وِژن پیش کریں گے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد