BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 March, 2006, 05:54 GMT 10:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لشکر طیبہ ملوث ہے‘ خاکے جاری

مشتبہ افراد کے خاکے
مشتبہ افراد کے جاری کیئے گئے خاکے
بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ بنارس بم دھماکوں میں کشمیر میں سرگرم شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا ہاتھ ہے۔ اس سلسلے میں دو مشتبہ افراد کے خاکے بھی جاری کیئے گئے ہیں۔

شمالی اتر پردیش پولیس کے سربراہ یشپال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش کا رخ لشکر طیبہ کی طرف جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس لشکر طیبہ کے ملوث ہونے کی شہادت موجود ہے۔

یشپال سنگھ نے کہا ہے کہ ’دو روز کی تحقیقات کے بعد جو سراغ حاصل ہوئے ہیں اس سے لشکر طیعبہ پر شک مضبوط ہوتا جا رہا ہے‘۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں ’امونیم نائٹریٹ‘ جیسے طاقتور مادے کا استمعال کیا گیا ہے جو عام طور پر لشکر طیبہ گروپ اپنے حملوں میں استمعال کرتی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے سنجے ماجومدار کے مطابق ماضی میں بھی اس قسم کے دھماکوں کا الزام اسلامی تنظیموں اور خصوصاً کشمیر میں بھارتی راج کے خلاف مزاحمت کرنے والی تنظیموں پر لگتا رہا ہے۔ تاہم جہاں یہ تنظیمیں بھارتی حکومت کی تنصیبات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری فوراً قبول کر لیتی ہیں وہیں انہوں نے کبھی بھی سویلین لوگوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

بنارس کے سنکٹ موچن مندراور ریلوے اسٹیشن پر منگل کے حملے کے خلاف بدھ کو بنارس میں ہڑتال کی گئی۔ بنارس کے دو دھماکوں میں 14 افراد کی ہلاکت کے بعد انڈیا کے تمام شہروں میں چوکسی انتہائی کر دی گئی ہے۔

بعض اطلاعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 بتائی تھی لیکن اس قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اسے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ دہشت گردی کے یہ واقعات مذہبی تصادم کا رخ اختیار نہ کر لیں کیونکے اتر پردیش میں اس سے پہلے بھی ہندو مسلم مذہبی فسادات ہوتے رہے ہیں۔

پولیس اور خفیہ کے اداروں کے اہلکاروں کے اہم اجلاس امن و امان اور دھماکوں کے ذمہ داروں کے بارے میں جائزہ لیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس مندر میں شادی کی ویڈیو سے مشتبہ افراد کے خاکے تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہڑتال کی اپیل بی جے پی اور اس کی ہمنوا ہندو تنظیموں نے کی ہے۔ پارلیمنٹ نے بھی کل کے خونریز حملوں کی شدید مزمت کی ہے۔ بی جے پی نے احتجاج میں پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دی اور دونوں ایوانوں کا اجلاس کل تک کے لیئے ملتوی کرنا پڑا۔

اس دوران بنارس میں تفتیش کاروں نے کم ازکم دو حملہ آوروں کے خاکے تیار کر لیئے ہیں ۔ اطلاع کے مطابق یہ مشتبہ افراد بڑے بیگ کے ساتھ مقامی بازار میں دیکھے گئے تھے ۔ پولیس کا خیال ہے کہ دھماکوں میں کم از کم پانچ یا چھ افراد ملوث ہیں۔ بم بنانے میں امونیم نائٹریٹ کا استعمال کیاگیا تھا۔

مقامی انتظامیہ نے بنارس اور اس کے اطراف میں اسکول اور کالجز بند کر دیئے ہیں۔ شہر میں بالخصوص کاشی وشوناتھ مندر کے اطراف میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔

اس دوران اتر پردیش کی پولیس نے بنارس سے تقریبا ڈیڑھ سو کلو میٹر کی دوری پر واقع گوسائیں گنج میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس شخص کا تعلق شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ سے ہے۔ پرلیس کو اس شخص کے دلی میں اکتوبر کے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کاشبہ ہے۔ اسے پاکستانی شہری بتایا گیا ہے۔

دارالحکومت دلی میں بھی پولیس نے لشکر طیبہ کے دو شدت پسندوں کو مارنے کا دعوی کیا ہے۔ ان میں سے ایک کی شناخت ہو گئی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے کل کے حملوں کے لیئے حکومت کی ’جعلی سیکولر‘ اور ’اقلیتوں کی خوشنودی‘ کی پالیسی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہنما ایل کے اڈوانی نے اعلان کیا ہے ان کی جماعت حکومت کی غلط پالیسیوں کو اجاگر کرنے لیئے پورے ملک میں ’اتحاد یاترا‘ نکالے گی۔

انھوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اس بار پارٹی ہولی کا مقدس تہوار نہیں منائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد