بنارس:دھماکوں کے بعد ہائی الرٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر واراناسی (بنارس) میں ہندوؤں کے ایک بڑے مندر سنکٹ موچن اور شہر کے کینٹ ریلوے سٹیشن پر منگل کو ہونے والے بم دھماکوں کے بعد انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے عوام سے پُر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ دھماکوں میں اب تک کم از کم چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جب کے 60 افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ کسی ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر انڈیا کے دوسرے شہروں میں بھی سیکیورٹی چوکس کر دی گئی ہے۔ دریں اثناء اترپردیش میں پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ریاست کے دارالحکومت لکھنوؤ میں پولیس نے مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ کے ایک رکن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ ریاست کی خصوصی ٹاسک فورس کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ایس کے بھگت نے کہا کہ منگل کی شام کو ہلاک ہونے والا شدت پسند پولیس کو گزشتہ سال دلی میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں مطلوب تھا۔ حکام کے مطابق پولیس کو اس کے قبضے سے ڈھائی کلو آر ڈی ایکس، ڈیٹونیٹرز اور کچھ پستول ملے ہیں۔ دوسری طرف واراناسی پولیس کے سینیئر افسر پاریش پانڈے کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں زخمی ہونے والوں میں سے پینتیس کی حالت نازک ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ اس سے شہر میں ہندو مسلم فساد نہ شروع جائے اور پہلے ہی اس کو روکنے کے اقدامات کیے جا سکیں۔
یاد رہے کہ دریائے گنگا پر واقع شہر بنارس جسی اب واراناسی کا سرکاری نام دے دیا گیا ہے ہندوؤں کا مقدس شہر ہے اور یہ ہندو مت کا دارالحکومت کہلاتا ہے۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب بنارس کے قریبی شہر لکھنوؤ میں کچھ دن پہلے ہندو مسلم جھگڑا ہو چکا ہے۔ ابھی تک کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں شدت پسند پاکستانی شدت پسند گروہ لشکرِ طیبہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ بم دھماکوں کے بعد شہر کے بم ڈسپوزل محکمے کے لوگوں نے دو بم ناکارہ بھی بنائے ہیں۔ پہلا دھماکہ سنکٹ موچن مندر کے اندر میں ہون کنڈ یعنی اس آتش دان کے قریب ہوا جہاں شادی کی رسمیں ادا کی جا رہی تھیں۔ اس کے علاوہ منگل ہونے کی وجہ سے مندر میں لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب ہوا۔ مندر دھماکے کے دس منٹ بعد ہی شہر کے کینٹ ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم کے قریب ایک اور دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب شیو گنگا ایکسپریس سٹیشن کے اسی پلیٹ فارم نمبرایک سے روانہ ہونے ہی والی تھی۔ تیسرا دھماکہ بھی ریلوے سٹیشن پر بتایا گیا تھا مگر بعد میں اس کی تردید کر دی گئی۔
بنارس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رام دت تریپاٹھی کے مطابق مندر میں دھماکے کے ایک عینی شاہد کا کہنا ہے’دھماکہ مجھ سے کچھ ہی دور ہوا، اس کے بعد میں نے کئی لوگوں کو بری طرح تڑپتے ہوئے دیکھا۔ کچھ لوگوں کے اعضاء ان کے جسم سے الگ ہو گئے تھے۔ لوگ بری طرح چیخ رہے تھے‘۔ انڈیا کے وزیرداخلہ شیو راج پٹیل اور حکومتی اتحاد کی سربراہ سونیا گاندھی نے واراناسی پہنچ کر دھماکوں کا نشانہ بننے والے مقامات کا دورہ کیا اور ہسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کی۔ شہر کے پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ شہر کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں بنارس کے بڑے مندر میں دھماکہ07 March, 2006 | انڈیا متنازعہ رام مندر پر حملہ، چھ ہلاک 05 July, 2005 | انڈیا ’مندر نہیں بناتے، مدد کرتے ہیں‘11 January, 2005 | آس پاس مندر کی چھت گرنے سے دو ہلاک30 August, 2004 | انڈیا پشاور: رام مندر خالی کرنے کا نوٹس02 November, 2003 | پاکستان مندر تھا، نہیں تھا25 August, 2003 | صفحۂ اول ’ایودھیا کے نیچے مندر‘25 August, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||