BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 15:53 GMT 20:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل مشرف کی پیشکش مسترد

ممبئی دھماکوں میں پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے
ہندوستان نے ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش میں تعاون کی پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی پیش کش مسترد کردی ہے۔

دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ اگر پاکستان ہندوستان کو یہ باور کرنا چاہتا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں دہشت گردوں کے خلاف ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔

’مثال کے طور پر حزب المجاہدین کے خود ساختہ سربراہ سید صلاح الدین کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور انہیں ہندوستان کے حوالے کیا جائے۔‘

 مثال کے طور پر حزب المجاہدین کے خود ساختہ سربراہ سید صلاح الدین کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور انہیں ہندوستان کے حوالے کیا جائے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا
مسٹر سرنا کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں بھی تعاون سے انکار کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مئی میں بھی داخلہ سکریٹریوں کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں پاکستان کو وہاں موجود شدت پسندوں اور مفرور مجرموں کے بارے میں ٹھوس شواہد دیے گئے تھے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کے باوجود، صدر مشرف کی یقین دہانی کے پیش نظر ہم پاکستان کو تمام ثبوت فراہم کریں گے۔‘

مسٹر سرنا کا کہنا تھا کہ ’ان حالات میں مذاکرات بے معنی ہوچکے ہیں۔ یہ مذاکرات تبھی جاری رہ سکتے ہیں اور ان سے کوئی نتیجہ بھی تبھی نکل سکتا ہے جب پاکستان اپنی سرزمین سے کی جانے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کے خلاف قدم اٹھائے۔‘

 ممبئی دھماکوں کےدس دن گزر جانے کے بعد بھی بھارتی حکومت کے پاس داؤد ابراہیم یا حزب المجاہدین کے چیف کا نام لینے کے بجائے کچھ کہنے کو نہیں ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ممبئی حملے کے فوری بعد پاکستان پر انگلی اٹھانے کے غیرذمہ دارانہ اقدام کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔
پاکستانی دفتر خارجہ
ہندوستان نے ممبئی بم دھماکوں کے لیے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا۔ حالانکہ ابھی تک بظاہر کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

وزارت خارجہ کے ان بیانات سے یہ واضح ہے کہ ہندو پاک امن مذاکرات فی الحال التوا میں جا چکے ہیں۔ ہندوستان نے پاکستان کے خلاف انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے اور مستقبل قریب میں اس موقف میں نرمی پیدا کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

دریں اثناء، ہندوستان کے اس موقف پر اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ پاکستان ہندوستان کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

بیان کے مطابق ’ممبئی دھماکوں کےدس دن گزر جانے کے بعد بھی بھارتی حکومت کے پاس داؤد ابراہیم یا حزب المجاہدین کے چیف کا نام لینے کے بجائے کچھ کہنے کو نہیں ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ممبئی حملے کے فوری بعد پاکستان پر انگلی اٹھانے کے غیرذمہ دارانہ اقدام کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔‘

کشمیر امن مذاکرات
ممبئی دھماکوں کے امن کوششوں پر اثرات
زندگی تھم گئی ہے
’بے شمار لوگوں کی زندگی بدل گئی‘
ممبئی’ ذلت اور بے بسی‘
بھائی کی تدفین میں شرکت میں آمد پر تفتیش
ممبئیتفتیشی دائرہ وسیع
ممبئی پولیس کا رخ اب بنگلہ دیشیوں کی جانب
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد