’کبھی اتنی ذلت اور بے بسی محسوس نہیں کی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے بھائی کی تدفین میں روس سے شرکت کے لیئے آنے والے انڈیا کے شہری کو حکام نے پندرہ گھنٹے تک تفتیش کی خاطر ائیرپورٹ پر ہی روکے رکھا۔ ریحان احمد شیخ ممبئی ٹرین دھماکوں میں ہلاک ہوئے اپنے بڑے بھائی اعجاز کی تجہیز و تدفین میں شرکت کے لیئے جیسے ہی ممبئی سہار انٹرنیشل ائیرپورٹ پر اترے ، انہیں محکمۂ امیگریشن کے حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا اور پندرہ گھنٹوں تک ان سے اور ان کی بیوی سے تفتیش جاری رکھی۔ ریحان ممبئی کے مضافات میں اندھیری کی ادویہ کمپنی میں ملازم ہیں اور گزشتہ چار برسوں سے کمپنی کی ہی ماسکو برانچ میں کنٹری اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے بھائی اعجاز نجی کمپنی ’ایس او ٹی سی‘ میں برانچ مینجر کے عہدے پر فائز تھے ۔منگل کے روز انہیں اپنے دس ماہ کے بیٹے عفان کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا تھا اس لیئے وہ دفتر سے جلدی نکلے اور بوریولی کی ٹرین میں ہوئے دھماکہ میں ان کی موت واقع ہو گئی ۔ ریحان جمعہ کی صبح چار بجے ماسکو سے روسی ایئر لائن ایروفلوٹ سے سہار انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترے ۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی عظمٰی ، پانچ سالہ بیٹی طوبٰی اور چار سالہ بیٹا محمد زید بھی تھے ۔ ریحان کے مطابق امیگریشن کاؤنٹر پر انہیں تین افسران نے روک لیا اور کہا کہ ان کے ایک سینئر افسر کو ان سے تفتیش کرنی ہے اس لیئے انہیں آٹھ بجے تک رکنا ہوگا۔
ریحان کے مطابق’میں نے انہیں کہا کہ میں اپنے بھائی کی تدفین کے لیئے اپنی فیملی کے ساتھ آیا ہوں اور میرےگھر میں سب انتظار کر رہے ہیں اس لیئے آپ کو جو کچھ بھی پوچھنا ہے وہ جلد پوچھ لیں‘۔ تاہم ریحان کا کہنا تھا کہ ان کی ایک نہیں سنی گئی۔ ریحان کے مطابق کافی انتظار کے بعد گیارہ بجے کے قریب مزید تین افسران آئے وہ انہیں ایک علیحدہ کمرے میں لے گئے جہاں ان سے شام ساڑھے چار بجے تک تفتیش جاری رہی۔ ریحان کے مطابق اس دوران انہیں پانی تک کے لیئے نہیں پوچھا گیا۔ افسران نے ان سے دورانِ تفتیش سوال کیئے کہ’یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے، داڑھی کیوں رکھتے ہو؟ کس تنظیم سے تعلق رکھتے ہو کیا سرگرمیاں ہیں‘۔ ریحان کا کہنا ہے کہ’میں نے انہیں بتلایا کہ میں اپنے عقیدے کی وجہ سے داڑھی رکھتا ہوں اور کسی تنظیم سے میرا تعلق نہیں ہے البتہ میں تبلیغی جماعت کے ساتھ اکثر تین مہینے کے لیئے جاتا ہوں لیکن کیا یہ جرم ہے؟‘ اس دوران ریحان کے دفتر سے بھی کچھ لوگ آئے اور انہوں نے افسران کو بتایا کہ یہ شخص ان کا ملازم ہے اور وہ ان کی گارنٹی لیتے ہیں لیکن افسران نے کسی کی نہیں سنی۔ سہار انٹرنیشنل ایئرپورٹ افسر آر ایل حق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے جمعہ کی صبح ریحان شیخ کو تفتیش کے لیئے روکا تھا۔ حق کا کہنا تھا کہ ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے سلسلہ میں پولیس بہت چوکنا ہے اور پولیس کے جانب سے انہیں فون موصول ہوا تھا کہ ایرو فلوٹ سے آنے والے مسافر ریحان سے تفتیش کرنی ہے اس لیئے انہیں روکا جائے۔ آر حق کے مطابق دس بجے کے بعد ممبئی پولس کے تین افسران آئے اور انہوں نے ریحان سے تفتیش کی لیکن اس سے محکمۂ امیگریشن کا کچھ لینا دینا نہیں ہے حتٰی کہ امیگریشن حکام نے تو ریحان کے سامان کی جانچ پڑتال بھی نہیں کی۔
ریحان کی بیوی عظمٰی اس واقعہ سے پوری طرح دہل گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ’اپنی زندگی میں اتنی ذلت اور بے بسی محسوس نہیں کی‘۔ ان کے مطابق انہیں اور ان کے بچوں کو کئی گھنٹوں تک بھوکا رکھا گیا ۔انہوں نے جب حاجت کے لیئے جانے کی اجازت مانگی تو انہیں پہرے میں لے جایا گیا۔ کئی مرتبہ ان سے ایک ہی سوال کیا جاتا کہ ان کے سسرال میں کون ہیں، وہ لوگ کیا کرتے ہیں اور وہ روس میں کیوں رہتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ پندرہ گھنٹوں کے بعد جب ریحان واپس آئے تو ان کے بڑے بھائی کی تدفین عمل میں آئی۔ ریحان کی مصیبت ابھی کم نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جاتے ہوئے افسران نے ان سے کہا کہ انہیں کسی نے فون کر کے ان کی شکایت کی ہے اور اس لیئے وہ اپنا پورا پتہ اور ٹیلیفون نمبر دیں تاکہ اگر انہیں کچھ تفتیش کرنی ہو تو پھر کسی بھی وقت انہیں طلب کیا جا سکے ۔ اب ریحان خوفزدہ ہیں کہ کہیں ان کی ملازمت پر کوئی آنچ نہ آئے ۔ | اسی بارے میں ممبئی: تفتیش لشکر سے آگے بڑھ گئی15 July, 2006 | انڈیا ’پتہ نہیں اب کہاں سے لاش آئی ہے‘14 July, 2006 | انڈیا ممبئی حملہ آوروں کے خاکوں کی تیاری14 July, 2006 | انڈیا ’مجھے میرا بیٹا دیدو‘ ایک ماں13 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||