انسداد دہشتگردی: پاک بھارت تعاون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کی روک تھام کے لیئے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک مربوط نظام قائم کیا جائےگا۔ دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ اس نظام کے تحت دونوں ممالک دہشتگردی کے خاتمے کے لیئے وزارتِ خارجہ و داخلہ جیسے اداروں کو بطور ذریعہ استمال کرتے ہوئے معلومات کا تبادلہ کر سکیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی کچھ ممالک کے ساتھ ایسے نظام کے تحت معلومات کا تبادلہ کرتا ہے۔ اس سوال پرکہ کیا اس نظام کے تحت انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ بھی ہوگا، تسنیم اسلم نے کہا کہ اس نظام کے قیام کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیاں بات چیت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ کس قسم کی معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ ہوانا میں صدر مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کی ملاقات کے بارے میں تسنیم اسلم نے کہا کہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لیئے درمیانی راہ نکالنے پر اتفاق کیا۔تاہم ان کے مطابق اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کشمیر پر اپنے موقف سے دستبردار ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیامِ امن کا عمل عارضی تعطل کا شکار ہوا تھا لیکن ہوانا میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات سے یہ امن عمل دوبارہ صحیح راستے پر چل پڑا ہے۔ امریکی صدر بش سے صدر مشرف کی ملاقات کے ایجنڈے میں حدود بل کی شمولیت کےسوال پر ترجمان نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران دہشتگردی کے خلاف جنگ، افغانستان اور مشرقِ وسطٰٰی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بات ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ سے حدود بل کی منظوری نہیں لے رہا بلکہ حکومت چاہتی ہے کہ دنیا کو پتہ چلے کہ پاکستان میں بنیادی حقوق کی بہتری کے لیئے کیا مثبت اقدامات ہو رہے ہیں۔ تسنیم اسلم نے پاکستانی فوج میں طالبان سے ہمدردی رکھنے والے عناصر کی موجودگی کے حوالے سے آسٹریلوی وزیرِ خارجہ کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے اور افغانستان میں درپیش حالات کا جائزہ لیتے ہوئے خود بھی مزید اقدامات کرے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||