اقوام متحدہ: انڈین امیدوار پر بحث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں سکریٹری جنرل عہدہ کے لیئے انڈین اُمیدوار کی نامزدگی نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں یو این او کو پھر سے موضوع بحث بنا دیا ہے۔ ایک طرف جہاں شدت پسند حلقے ہندوستان کے فیصلہ کو ’غیر اخلاقی اور غیر آئینی‘ قرار دیتے ہیں، وہیں ہند نواز حلقوں کا کہنا ہے کہ یو این او کے سکریٹری جنرل کے انتخاب کو ’قومیت کے محدود زاویے سے دیکھنا ٹھیک نہیں‘۔ علٰیحدگی پسند اتحاد حرّیت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے اپنے ردعمل میں بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا اس اہم عالمی عہدے کا اخلاقی حق نہیں رکھتا۔ وہ کہتے ہیں کے ’کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قریب ڈیڑھ درجن قراردادیں ایسی ہیں، جن کا انڈیا نے احترام نہیں کیا۔ یہ ملک تو یو این اصولوں کا وائیلیٹر (خلاف ورزی کرنے والا) ہے۔ اس صورت میں اس کا سکریٹری جنرل کے عہدے کے لیئے امیدوار کھڑا کرنا ناقابل فہم ہے‘۔ حریت کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاوق کا لہجہ اگرچہ نرم ہے تاہم وہ اس سلسلے میں مسئلہ کشمیر کے ’نفسیاتی پہلو‘ کو سمجھنے پر زور دیتے ہیں۔ میرواعظ کا کہنا ہے کہ ’پچھلے انسٹھ سال سے عام کشمیری کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ انڈیا نے اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جو انہیں اپنا مستقبل خود چننے کا حق دیتی ہیں۔ اس نفسیاتی پہلو کو دیکھتے ہوئے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ کشمیری عوام یو این آفس کے لیئے کسی انڈین کی نامزدگی پر جشن منائیں گے۔ یہ بات اپنی جگہ ہے کہ لوگوں کو اس ادارے (اقوام متحدہ) سے کوئی خاص اُمیدیں نہیں ہیں۔ وہ فوجی انخلاء کے لیئے اب سڑکوں پر نکل آتے ہیں‘۔ ہندوستان کے سابق نائب وزیر خارجہ اور حزب اختلاف کے سربراہ عمر عبداللہ اس معاملے میں مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ عمر عبدللہ کو امید ہے کہ اگر ہندوستانی امیدوار ہی اس عہدے پر فائز ہوتا ہے تو وہ غیر جانبدار رول ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مدد بھی کر سکتا ہے۔ کانگریس قیادت والے حکمران اتحاد کی اہم اکائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی مذکورہ عہدے کے لیئے ہندوستانی اُمیدوار کی نامزدگی کو ایک ’بےکار عمل‘ سمجھتی ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا کرکے نئی دلّی نے سلامتی کونسل میں مستقل رکنیّت کے لیئے اپنی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ محبوبہ کا کہنا ہے کہ ’سوال یہ نہیں ہے کہ کشمیریوں کو کیا ملے گا، سوال یہ ہے کہ خود نئی دلی کو کیا ملے گا؟ یو این او تو ویسے بھی ایک بے عمل ادارہ بنتا جا رہی ہے۔ عراق فلسطین کی صورتحال تو آپکے سامنے ہے۔ یہ ادارہ تو امریکہ کا تابعدار ہے، ہم کیا امید رکھ سکتے ہیں‘۔ اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ یو این چیف کے لیئے انڈین اُمیدوار کی نامزدگی پر بعض سیاسی حلقوں کی ناراضگی اپنی جگہ لیکن امریکہ اور اس کی حلیف قوّتوں کے نزدیک انڈیا کا کینڈیڈیچر قابل اعتراض نہیں ہے تاہم ہندوستانی امیدوار کے انتخاب کا دارومدار الیکشن کے دوران عرب دنیا اور دیگر مسلم ممالک کے رویّے پر ہوگا۔ مقامی قلم کار غلام رسول کے مطابق اس معاملے میں کشمیریوں کے تحفظات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دنیا کے لیئے فلسطین، عراق، ایران اور افغانستان کے مسائل زیادہ اہم ہیں اور ہماری کسی عالمی معاملے میں مخالفت یا حمایت سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب ایک ملک کے زیر قبضہ علاقہ میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر اس کی حرکتوں کے نگران ہوں تو اسی ملک کا یو این چیف کے عہدے کے لیئے امیدوار نامزد کیا جانا حیرت کا مقام ہے۔ لیکن انڈین امیدوار کا میدان میں اترنا جس عالی سیاست کا حصہ ہے اس میں ان جذباتی چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ | اسی بارے میں سیکرٹری جنرل کیلیے بھارتی امیدوار15 June, 2006 | انڈیا کوفی عنان بھارت کے دورے پر24 April, 2005 | انڈیا عنان کا دورہِ بھارت26 April, 2005 | انڈیا ”دراندازی کی کوششیں دوگنی”20 August, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||