BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اطمینان،افسوس اور خدشات کے60سال

مبصرین کا اصرار ہے کہ کشمیر معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی مسئلہ ہے
اس سال جب ہندوستان اپنی آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منا رہا ہے، اس کے زیرانتظام کشمیر میں اطمینان، افسوس اور خدشات کے ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں۔

اطمینان اس لیے کہ ڈوگرہ مہاراجوں کی خاندانی ڈکٹیٹرشپ کے خاتمہ کے بعد شیخ محمد عبداللہ کی عوامی حکومت نے جن معاشی اصلاحات کو متعارف کروایا ان کی بدولت غربت میں ہندوستان کی چھبیس فیصد قومی اوسط کے مقابلے میں آج کشمیر میں صرف ساڑھے تین فی صد آبادی غریبی کے زمرے میں آتی ہے۔

افسوس اس لیے کہ ہندوستان کے ساتھ مہاراجہ کے مشروط الحاق کے صرف پانچ سال بعد حکومت ہند نے کشمیر کے پہلے مقامی مسلم وزیراعظم شیخ محمد عبدللہ کو’ملک کے خلاف غداری‘ کے الزام میں گرفتار کر کے بائیس سال تک قید رکھا اور اس کے بعد ’پراکسی‘ حکمرانوں کا رواج چل پڑا، جس نے عوامی سطح پر جمہوریت کے ہندوستانی ماڈل کو بے اعتبار کر کے رکھ دیا۔ بعض حلقے رواں شورش کو نئی دلّی کے انہی ’سیاسی تجربات‘ کا نتیجہ مانتے ہیں۔

اور خدشات اس لیے کہ کشمیر اور نئی دلّی کے درمیان اُنیس سو سینتالیس میں جو رشتہ مہاراجہ نے الحاق اور شیخ محمد عبداللہ نے اُنیس سو باون کے ’دلّی ایگریمنٹ‘ کے ذریعہ قائم کیا، وہ دونوں طرف سے بے اعتبار ہوگیا ہے۔

عبدالرحیم راتھر
حکمرانوں کو بدلتے رہنے کی روش نے مالی ترقی کو ضائع کر دیا:عبدالرحیم راتھر

بعض مبصرین کے مطابق حالات اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ اب اگر سارے جہاں کی دولت بھی کشمیر پر نچھاور کی جائے تو ہندوستان اور کشمیر کے بیچ حائل خلیج کو پاٹنا مشکل ہوگا۔ ان مبصرین کا اصرار ہے کہ کشمیر معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی مسئلہ ہے۔

ترقی کے آثار
مبصرین کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ پچھلے ساٹھ سال میں کشمیریوں کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے یہاں تک کہ سخت گیر علیٰحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی بھی اس سے انکار نہیں کرتے ، لیکن ان کا ماننا ہے کہ’اب تک جو بھی حکومتیں یہاں بنی ہیں انہوں نے ہر بہانے سے لوگوں سے ٹیکس لیا ہے، لہٰذا یہ ان پرلازم تھا کہ وہ لوگوں کی بہبود کے لیے کام کریں‘۔

شہر کے نواح میں پچھلے چالیس سال سے پرچون کی دکان چلا رہے محمد سلیم خان کا خیال ہے کہ’شیر کشمیر (شیخ محمد عبداللہ) نے اُنیس سو سینتالیس کے بعد جاگیر دارانہ نظام ختم کرکے مظلوم کسانوں کو زمینوں کا مالک بنا کر کشمیر میں معاشی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ وہ (محمد علی) جناح کے دوقومی نظریہ کے برعکس اپنے لوگوں کو ایک خوشحال کشمیر کی طرف بلا رہے تھے اور اس میں کامیاب بھی ہوگئے تھے، لیکن دلّی والوں نے انیس سو ترپّن میں ان کا تختہ الٹ کر سب کچھ ملیا میٹ کردیا‘۔

اُنیس سو سینتالیس میں ریکارڈ کی گئی کشمیر کی تقریباً دس فیصد شرح خواندگی آج ساٹھ فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔ محمد سلیم کہتے ہیں’سینتالیس کے بعد یہاں کشمیر یونیورسٹی نہ بنتی تو ہمارے پروفیسر امریکی اور یورپی یونیورسٹیوں میں اس وقت نہ پڑھا رہے ہوتے‘۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق چالیس سال قبل ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے پورے خطے میں آمدو رفت کے قابل سڑکوں کی کل مسافت چار ہزار سات سو کلومیٹر تھی، جو دوہزار چار میں پندرہ ہزار چار سو کلومیٹر تک پہنچ گئی۔

زرعی پیداوار میں بھی پچھلے چالیس سال کے دوران چھ لاکھ میٹرک ٹن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ساٹھ کی دہائی میں میوہ کی پیدوار ایک لاکھ ٹن تھی جو دو ہزار چار میں تیرہ لاکھ ٹن ریکارڑ کی گئی۔

 ساٹھ سال سے ہم نے بہت ترقی کی۔ ہندوستان نے خوب پیسہ بھی دیا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ لیکن منتخب حکمرانوں کو غیر جمہوری طریقوں سے بدلتے رہنے کی روش نے مالی ترقی کو ضائع کردیا۔ اب تو پچھلے بیس سال سے جو ہورہا ہے، اس کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ سارے جہاں کی دولت بھی لے آئیے تو کچھ نہیں ہوگا، جب تک کشمیریوں کو خودمختاری کا احساس نہیں دلایا جاتا۔
عبدالرحیم راتھر

تاہم چالیس سال قبل ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس آبی معاہدے کی وجہ سے کشمیر بجلی کی پیداوار کے حوالے سے پیچھے رہ گیا ہے۔ ہندوستان کے پہلے مسلمان ہوم منسٹراور کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کا کہنا ہے کہ کشمیر کو اس معاہدے کی وجہ سے چھ ہزار کروڑ روپے سالانہ نقصان ہو رہا ہے۔

تاہم گزشتہ بیس سال کے دوران کئی ایسے نئے منصوبے تیار کیے گئے ہیں جن کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کی تکمیل کے بعد کشمیر بجلی کی پیدوار میں خود کفیل ہو جائے گا۔ اس حوالے سے ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی طرف سے کشمیر کے لیے چوبیس ہزار کروڑ روپے کے مالی پیکج کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس مالی پیکج میں سے اٹھارہ ہزار کروڑ روپے صرف بجلی کے منصوبوں کی عملدرآمد کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔

تلخیاں
معاشی ترقی کے اس ساٹھ سالہ سفر پر بعض حلقوں کو افسوس بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سرمایہ اور مالی امداد کی ریل پیل کے درمیان کشمیر اور نئی دلّی کے درمیان مطلوبہ اعتبار پیدا نہ ہو سکا۔

نیشنل کانفرنس کے سینئیر لیڈر اور اقتصادی امور سے متعلق پارٹی کے خصوصی شعبے کے سربراہ عبدالرحیم راتھر نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا کہ’ساٹھ سال سے ہم نے بہت ترقی کی۔ ہندوستان نے خوب پیسہ بھی دیا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ لیکن منتخب حکمرانوں کو غیر جمہوری طریقوں سے بدلتے رہنے کی روش نے مالی ترقی کو ضائع کردیا۔ بیس سال سے جو ہورہا ہے، اس کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ سارے جہاں کی دولت بھی لے آئیے تو کچھ نہیں ہوگا، جب تک کشمیریوں کو خودمختاری کا احساس نہیں دلایا جاتا‘۔

پیر غلام رسول
تقسیم کا فارمولہ ترتیب دیا گیا تو کشمیر ایک جغرافیائی تنازعہ بن کے اُبھرا:پیر غلام رسول

مسٹر راتھر کہتے ہیں کہ ’اُنیس سو ترپن میں شیخ عبداللہ کی گرفتاری کے بعد دلّی والوں نےاپنے’پراکسی‘ حکمرانوں کی مدد سے انڈین آئین کی درجنوں شِقوں کو ریاست پر لاگو کروا کے ہماری خودمختار حیثیت کو ختم کر ڈالا۔ ہمارا اپنا پرچم ہے، اپنی عدالت ہے، اپنے الگ قوانین ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ تو ایک معاہدہ تھا، ہم ہندوستان کی کوئی قدرتی اکائی نہیں تھے۔ لیکن بتدریج اس معاہدے کو کمزور کیا جاتا رہا۔ آج جب ہم ساٹھ سال پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں ترقی کے نشان بھی ملتے ہیں، لیکن دھوکہ اور وعدہ خلافی کی تاریخ کے نزدیک یہ ترقی بے معنی لگتی ہے۔ یہ لوگوں کے جذبات کا معاملہ ہے‘۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جو کچھ معاشی ترقی کشمیر پچھلےساٹھ سال میں کر چکا تھا، وہ بھی پچھلے تیس سالہ عرصے میں دلّی کی سیاسی مجبوریوں کی نذر ہو کر رہ گئی۔ اقتصادی امور کے ماہر اور معروف کالم نگار ارجمند حسین طالب کا خیال ہے کہ ہندوستان کی آزادی سے قبل کشمیر ایک خود کفیل خطہ تھا اور چھوٹی چھوٹی صنعتوں کی بدولت تمام لوگ روزگار کے اہل تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ مظفرآباد روڈ کی وجہ سے کشمیر کی مصنوعات پاکستان، ایران اور افغانستان ہی نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں برآمد کی جاتی تھیں۔ارجمند کہتے ہیں’ساٹھ سال بعد حالت یہ ہے کہ روزگار کا واحد وسیلہ سرکاری نوکری رہ گیا ہے۔ چپے چپے پر فوج قابض ہے اور تمام راستے بند ہیں۔بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ کے لیے موسمی بحرانوں کا شکار سرینگر جموں ہائی وے ہے ،جو حکومت ہند نے کشمیر کے انضمام کے لیے مظفرآباد روڈ کے متبادل کے طور تعمیر کروائی تھی‘۔

سید تصدق حسین
ہندوستان اور پاکستان کو آزادی تو ملی لیکن کشمیری ہر لحاظ سے بچھڑ گئے: تصدق حسین

مسٹر طالب کہتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں عام کشمیری کے لیے یہ سوچنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ آیا ہندوستان کی آزادی سے اسے کوئی فائدہ ہوا یا نقصان۔

وادی کے ہفت روزہ چٹان کے مدیر طاہر محی الدین کے مطابق ہندوستان کی آزادی کے ساٹھ سال بعد کشمیریوں کو ترقی کے باوجود بے بسی اور ناامیدی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہندوستان کی آزادی کے بعد یہاں مختلف مرحلوں پر مسلح شورش بھی شروع ہوئی لیکن سیکولر قدریں مستحکم تھیں اور شیخ عبداللہ نہرو کے سیکولر نظریات کے قائل تھے مگر ہندوستان میں بابری مسجد کے انہدام اور گجرات فسادات کے بعد لوگوں کو احساس ہونے لگا کہ اگر ہندوستان کے اپنے شہری سیکولرازم سے محفوظ نہ رہ پائے تو کشمیری کیا چیز ہیں‘۔

ان کے مطابق پچھلے ساٹھ سالہ غیریقینی کے دور کے بعد اب تازہ مزاحمتی تحریک نے کشمیری معاشرے کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’موومنٹ میں بھی کرپشن ہے اور حکومت میں بھی۔ عام کشمیری استحصال کا شکار ہے۔ تعمیرات کے لحاظ سے بھلے ہی ترقی ہوئی ہو، لیکن جذباتی طور پر کشمیری آج بھی اُتنا ہی مجروح ہے جتنا وہ اُنیس سو سینتالیس میں تھا‘۔

خدشات
معروف کالم نگار اور قانون دان سید تصدق حسین کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے خود کشمیر میں علیٰحدہ وطنیت کے جذبات کو فروغ دیا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا ’ہمیں تو ہندوستان کا شکرگزار ہونا چاہیئے کہ اس نے اُنیس سو سینتالیس میں یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہنچایا۔ جس سے کشمیر ایک عالمی قانونی تنازعہ بن گیا اور لوگوں میں نیشنل ازم کے جذبات اُبھرنے لگے‘۔

 کشمیر شورش ایک مائنڈ سیٹ ہے، مالی امداد اور بے نتیجہ امن عمل سے یہ تبدیل نہیں ہوگا۔ ان کا ماننا ہے کہ ہزاروں لوگوں کی ہلاکت، ہزاروں کی گمشدگی اور ہزاروں کی ہجرت نے اس مسئلے کو ایک نفسیاتی مسئلہ بنادیا ہے جسے تمام فریقین فوجی قوت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

تصدق حسین کو خدشہ ہے کہ کشمیر میں کئی گنا زیادہ خطرناک مسلح شورش برپا ہوگی جس پر قابو پانا ہندوستان کے بس کی بات نہ ہوگی کیونکہ بقول ان کے علاقائی قوتیں صورتحال کا فائدہ اُٹھائیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ’ہندوستان اور پاکستان کو آزادی تو ملی لیکن کشمیری ہر لحاظ سے بچھڑ گئے۔ یہاں عوامی امنگوں کو پنپنے نہیں دیا گیا۔ جمہوریت کے نام پر ڈرامے اور نہ جانے کیا کیا۔ البتہ ایک فائدہ ضرور ہوا ہے وہ یہ کہ کشمیریوں کو قومیت کا تصور مل گیا اور ہندوستان کے خلاف مسلح جدوجہد تک کرنے پر آمادہ ہوگئے‘۔

ایک کشمیری نوجوان بشیر احمد کا کہنا ہے کہ’نوجوانوں کا بہت بڑا طبقہ ناراض ہے۔ پچھلے سات ماہ میں سات سو مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں۔ جب روزگار کے دروازے بند ہوجاتے ہیں تو نوجوان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ پچھلے ساٹھ سال میں ہندوستان کے ساتھ رہ کر کشمیر کو ملا کیا‘۔

معروف مصنف اور محقق پیر غلام رسول کا کہنا ہے کہ’پچھلے ساٹھ سال کے دوران ایک معنی خیز بات یہ ہوئی ہے کہ برٹش حکام نے جب عجلت میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کا فارمولہ ترتیب دیا تو کشمیر ایک جغرافیائی تنازعہ بن کے اُبھرا۔ بعد میں اسے سیاسی تنازعہ بنایا گیا اور اب کنٹرول لائن پر دونوں طرف افواج، کشمیر میں جوجی جماؤ اور مسلح شورش کی وجہ یہ ایک عسکری ایشو بن گیا ہے۔ ایسی صورت میں ترقی کس کام کی، یہ تو بہت خطرناک صورتحال ہے‘۔

اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ کشمیر شورش ایک مائنڈ سیٹ ہے، مالی امداد اور بے نتیجہ امن عمل سے یہ تبدیل نہیں ہوگا۔ ان کا ماننا ہے کہ ہزاروں لوگوں کی ہلاکت، ہزاروں کی گمشدگی اور ہزاروں کی ہجرت نے اس مسئلے کو ایک نفسیاتی مسئلہ بنادیا ہے جسے تمام فریقین فوجی قوت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

سید علی شاہ گیلانی ’کشمیر چھوڑ دیں‘
غیر کشمیری مزدور برائی کے ذمہ دار ہیں: گیلانی
شبنم ہاشمی، سماجی رضاکار سماجی کارکن،انٹرویو
’ کشمیر میں فوج،انڈین جمہوریت کو خطرہ‘
غلام نبی گوہرستاون سال بعد
ہندوستان کے آئین کا کشمیری ترجمہ
ریلوے(فائل فوٹو)ٹرین لیٹ ہوگئی
کشمیر ٹرین منصوبہ تین سال تاخیر کا شکار
چنار کو خطرہ
کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ بھوک ہڑتال پر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی مراکزپالیسی 'ان وزایبل'
فوجی موجودگی کو 'ان وزایبل' بنانے کے لیے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد