کشمیرمیں چھاؤنیاں ہٹ رہی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کے شہری علاقوں میں انڈین فوجی اور نیم فوجی موجودگی کو ’ان ویزیبل‘ بنانے کے لیے کیمپ مورچے ہٹائے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں چند سال قبل تک نہایت حساس سمجھے جانے والے جامع مسجد نوہٹہ علاقے میں سترہ سال سے قائم فوجی چھاؤنی کو گزشتہ روز حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے حکم پر ہٹا لیاگیا ہے۔ یہ اقدام اس منصوبے کے تحت اُٹھایا گیا جس میں فوج اور عوام کے درمیان فاصلہ رکھنے کے لیے شہری آبادیوں سے فوجی چھاؤنیوں، بنکروں، بڑے ناکوں اور چھوٹی چوکیوں کو ہٹایا جانا شامل ہے۔ نوہٹہ کے ایک شہری محمد رفیق کمار کے مطابق اکیس جولائی انیس سو اٹھاسی کو جب لال چوک کے تار گھر میں پہلا بم دھماکہ ہوا تو اس کے چند روز بعد جامع مسجد سے مسلح نوجوانوں نے نوہٹہ کی طرف کھلے عام ’فلیگ مارچ‘ کیا۔ اس کے بعد فورسز کی گشتی پارٹیوں پر حملے شروع ہوئے۔ ڈاؤن ٹاؤن کی سکیورٹی صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے ہندوستان کی مرکزی پولیس فورس یا سی آر پی ایف نے جامع مسجد کے متصل ایک وسیع و عریض چار منزلہ مکان میں ڈیرا جمالیا۔
اس مکان کے گرد مورچہ بندی کی گئی اور اس کے بعض کمروں میں ٹارچر سینٹر اور اسلحہ خانہ بھی قائم کیا گیا۔ کاوؤسہ بلڈنگ کہلانے والی یہ عمارت قالین کے معروف تاجر حاجی غلام قادر کاوؤسہ کی ملکیت ہے۔ سترہ سال بعد اپنے آبائی مکان کو فورسز سے خالی ہوتا دیکھ کر کاوؤسہ خوش تو ہیں لیکن مکان کی حالت دیکھ کر وہ مایوس ہوگئے ہیں۔ مسٹر کاوؤسہ کا کہنا ہے کہ انیس سو بانوے کے اوائل میں جب مسلح شورش نے زور پکڑ لیا اور شہر میں ایک ماہ کا کرفیو نافذ کیا گیا تو ان کا کنبہ نوہٹہ کے اسی مکان میں رہتا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کوبتایا کہ ’جونہی کرفیو میں ڈیل ہوئی تو ہم نے رشتہ داروں کے یہاں عارضی ہجرت کر لی لیکن اس دوران فورسز نے ہمارے مکان پر سازوسامان سمیت قبضہ کر لیا‘۔ کاؤسہ کا کہنا ہے کہ مکان کے تہہ خانوں میں لاکھوں روپے مالیت کے قالین، تانبے کے برتن اور چاندی کی مصنوعات تھیں جو بقول ان کے فورسز نے ’صاف‘ کر دیں۔
کاؤسہ نے مزید بتایا کہ تین سال تک انہیں اس مکان کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ساڑھے پانچ ہزار مربع فٹ اراضی پر پھیلی اس چار منزلہ عمارت میں بتیس کمرے ہیں جن میں آٹھ بڑے ہال بھی شامل ہیں لیکن فورسز نے فقط چھ ہزار چار سو روپے ماہانہ کرایہ مقرر کرکے مجھے بقایا جات وصول کرنے کی اطلاع دی ہے۔ مقامی دکاندار عبدالستار چلو نے بتایا کہ کہ ’پورا علاقہ ڈرتا تھا۔ اس کیمپ میں محلہ کے کئی نوجوانوں کو ٹارچر کیا گیا۔ اس پر بم حملے بھی ہوتے تھے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ راکٹ حملوں اور بارودی دھماکوں سے اس مکان کی دیواریں اس قدر بوسیدہ ہوگئی ہیں کہ یہ کبھی بھی ڈھہ سکتا ہے۔ ایک اور مقامی شہری بشارت لانکر کا کہنا ہے کہ فورسز اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان گولیوں کے تبادلے انہی تنگ گلیوں والے محلوں میں ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاؤن ٹاون میں جہاں جہاں بھی شہریوں کی املاک کو چھاؤنی بنایا گیا اس کے گرد سنگین مورچہ بندی کی گئی۔ جموں کشمیر پولیس کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت ہند کے داخلہ سکریٹری نے ریاستی انتظامیہ کو ایک خط کے ذریعے ہدایات دی ہیں کہ سِول آبادیوں سے فوجی اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی ’اِن ویزیبل‘ بنائی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی یا نیم فوجی دستوں کی موجودگی اور عوامی سرگرمیوں میں کافی فاصلہ ہو۔
سی آر پی ایف کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ’'ہم لوکل پولیس کے ساتھ مل کر ایسی جگہوں کا سیلیکشن کریں گے جہاں اگر چھاؤنی کو رکھا بھی جائے تو اس سے عام آدمی کو تکلیف نہ ہو‘۔ واضح رہے کہ صرف سرینگر میں سی آر پی ایف کی پچیس بٹالینیں تعینات ہیں جو جموں کشمیر پولیس کے ہمراہ انسداد شورش کی کارروائیاں کرتی ہیں۔ کاؤسہ بلڈنگ میں پہلے سی آر پی ایف اور بعد میں بی ایس ایف اور حالیہ دنوں دوبارہ سی آر پی ایف قیام پذیر تھی۔ سی آر پی ایف کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ مزید کئی علاقوں سے بھی ایسی چھاؤنیاں ہٹائی جا رہی ہیں۔ ان میں قمرواری چوک کا بڑا بنکر اور صفاکدل میں ایک مسجد کے ساتھ بنایا گیا بہت بڑا مورچہ بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں سری نگر قلعے سے فوجی انخلاء 24 April, 2007 | انڈیا مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجی انخلا کی تیاری؟17 November, 2006 | انڈیا پاکستان کاسکور : ایک پوائنٹ 12 December, 2006 | انڈیا اڈوانی کومشرف کا فارمولہ منظور نہیں24 December, 2006 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا مشرف فارمولہ: خیر مقدم اور تنقید26 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||