سری نگر قلعے سے فوجی انخلاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سری نگر کے وسط میں حول کے قریب واقع قلعہ میں قائم فوجی چھاونی کو منتقل کر کے بیس سال بعد گزشتہ روز عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ قلعے کو عام لوگوں کے لیے کھولا گیا تو قریبی بستی رعناواری کے محمد مقبول وانی دکان چھوڑ کر قلعہ دیکھنے کے لیے پہنچ گئے مگر قلعے کے احاطے میں پہنچتے ہی ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس قلعے کے بارے میں مختلف روایات ہیں جن کے مطابق اسے اٹھارویں صدی میں پٹھان حکمرانوں نے کوہ ماراں یا ہاری پربت پر مغل شہنشاہ اکبر نے ناگر نگر کے نام سے بسایا تھا۔ اس میں ایک عسکری پناہ گاہ بھی قائم کی گئی اور حفاظت کے لیے پہاڑی پر ایک مضبوط قلعہ بھی بنوایا لیکن بعض موّرخین کہتے ہیں کہ قلعہ پہلے سے موجود تھا اور پٹھان حکمران عطا محمد خان نے اس کو نئی طرز پر استوار کیا۔ قلعہ کے جنوبی سرے پٹھان حکمرانوں کی بنوائی ہوئی اٹھارویں صدی کی مسجد کے کھنڈرات دیکھ کر وانی جذباتی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیس سال قبل جب وہ دوستوں اور بزرگوں کے ساتھ قلعے کی سیر کو آتے تو بزرگ اس مسجد میں نماز ضرور پڑھتے تھے۔ انہوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا، ’ہم جانتے ہیں اکبر بادشاہ کٹر نہیں تھا۔ وہ سب دھرموں کی عزت کرتا تھا لیکن یہاں مندر ٹھیک ٹھاک ہے اور گوردوارا بھی لیکن مسجد میں ناپاکی ہے، گندگی اور کوڑا کرکٹ ہے۔ حکومت کو اس پر شرم آنی چاہیے‘۔
پہاڑی کے دامن میں سکھوں کا گوردورا ہے، مغربی حصے میں شاریکا دیوی کا مندر اور جنوبی ڈھلان پر حضرت شیخ حمزہ مخدوم کی کوہ ماراں یا ہاری پربت جس کی وجہ سے یہ پہاڑی تقریباً ہر فرقے کے لیے ایک مقدس مقام بن گئی ہے۔ معروف محقق اور ریاستی کلچرل اکادمی کے سابق سربراہ محمد یوسف ٹینگ کہتے ہیں کہ جس پہاڑی پر یہ قلعہ واقع ہے اسے کشمیر کی سب سے قدیم تاریخ راج ترنگنی میں شاریکا پربت کہا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے چونکہ ہاری کشمیری زبان میں شارک یا مینا کو کہتے ہیں۔ بعد میں کشمیری ہندؤں نے اس کا نام ہاری پربت رکھا‘۔ ہندومائتھولوجی کے مطابق ہزاروں سال قبل کشمیر پانی سے گھرا ہوا تھا اور لوگ پہاڑیوں پر گزر بسر کرتے تھے۔ تاریخ میں ان کہاوتوں کو نقل کرتے ہوئے لکھا گیا ہے پانی میں ایک خونخوار راکھشش جلبودیو رہتا تھا جلدبھو رہتا تھا جو ناک سے دھواں خارج کرتا تھا تو پورے علاقے میں اندھیرا چھا جاتا ۔ اسی اندھیرے میں وہ انسانوں کا شکار کرتا تھا۔
معروف مؤرخ ظریف احمد ظریف کہتے ہیں کہ بعض موّرخین کے مطابق ایک روایت یہ بھی ہے کہ لوگوں نے پہاڑوں پر عبادت کی اور ہندؤں کے بھگوان شو سےمدد طلب کی ۔ بتایاجاتا ہے کہ شو کی اہلیہ پاروتی نے اپنی بہن شاریکا کو مدد کے لیے بھیجا جس نے مینا کا روپ دھارا اور ایک پہاڑ اپنی چونچ میں اُٹھا کر جلدبھو کے سر پر دے مارا جس کے نتیجے میں وہ پانی میں ہی ڈوب کر مرگیا، اور لوگ پہاڑوں سے میدانی علاقوں کی آکر آباد ہوگئے۔ تاہم مسلم مؤرخین نے ہاری پربت کو کوہ ماراں سے موسوم کیا ہے۔ مار فارسی میں سانپ کو کہتے ہیں، اور پہاڑی پر سانپوں کی بہتات کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے سربراہ پروفیسر اسحاق خان کے مطابق سولہویں صدی کے آخر میں جب اکبر بادشاہ نے کشمیر کا دورہ کیا تو یہاں کی غربت اور بے روزگاری سے ان کا دل پسیج گیا۔ چنانچہ انہوں نے اسی پہاڑی کے دامن میں ناگر نگر نامی ایسا شہر بسانے کا فیصلہ کیا جس کے گرد پتھروں کی فصیل ہو۔ اس کے لیے شاہی خزانے سے ایک کروڑ نو لاکھ روپے کی خطیر رقم واگذار کی گئی اور ہندوستان کے مختلف خطوں سے کاریگر بھی لائے گئے۔ ناگر نگر کی تعمیر میں ہزاروں کشمیری گِلکاروں، نجاروں اور دوسرے ہنرمند و غیر ہنرمند مزدوروں کو روزگار ملا۔
اکبر نے، جنہیں اکبراعظم بھی کہا جاتا ہے، ناگر نگر کے صدر دروازے پر ایک کتبہ بھی لگوایا جس پر یہ لکھا تھا کہ ناگر نگرکی تعمیر میں کسی کو بیگار پر نہیں لیا گیا۔ مسٹر خان کہتے ہیں کہ اسی ناگر نگر میں پٹھان حکمرانوں نے اپنی عسکری پناہ گاہ بنائی تھی، جس کی حفاظت کے لیے انہوں نے پہاڑی پر ایک قلعہ تعمیر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قلعہ میں مسجد بھی بنوائی گئی جس میں پانی کے نکاس کے لیے مٹی سے بنے پائپوں کا استعمال ہوا تھا۔ قلعے میں مندر کی موجودگی کے حوالے سے پروفیسر مسٹر خان کہتے ہیں کہ ’اسے سکیورٹی فورسز نے ہی بنوایا ہوگا، کیونکہ پچھلے سترہ سال سے ہم نے دیکھا کہ جہاں بھی فوج یا نیم فوجی دستوں نے کیمپ تعمیر کیے وہاں انہوں نے مندر بھی تعمیر کیے‘۔ بعض دانشوار مانتے ہیں مندر کو ڈوگرہ حکمرانوں نے بنوایا تھا۔ اس سلسلے میں مسٹر ٹینگ کہتے ہیں کہ ’پچھلے سترہ سال کے دوران قلعہ کو ایک چھاونی میں تبدیل کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے قلعہ کی خوبصورتی ختم ہو گئی ہے اور عبادت گاہوں کی ناقدری بھی ہوئی‘۔ قلعے کی دیکھ بھال کا ذمہ دار محکمہ آرکائیوز ہے۔ محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شفیع زاہد نے اعتراف کیا کہ ’نامساعد حالات کی وجہ سے قلعہ کی تاریخی ہیئت کو محفوظ نہ کیا جاسکا‘۔
عام لوگوں کا کہنا ہے کہ بیس سال تک اس تاریخی قلعہ کو فوجی کیمپ بنائے رکھنے کے دوران متعلقہ حکام نےاس کی اندرونی حالت کا جائزہ لینے زحمت کبھی بھی نہیں کی۔ قلعے کی سیر کے لیے آئے سکول بچوں کی ایک جمعیت نے بتایا کہ وہ جب بھی قلعے کو دیکھتے تھے ان کے دل میں قلعے کے اندر جانے کی خواہش ہوتی تھی۔ ان میں شامل عرفان اور قیصر کا کہنا تھا کہ، ’اندر تو فورسز نے سب ختم یا ڈسٹرائے کر دیا ہے‘۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے دس سال میں کئی مرتبہ حکومت سے درخواست کی تھی کہ قلعہ میں موجود فورسز کو ہٹایا جائے، کیونکہ اس علاقے میں تشدد کی کوئی واردات نہیں ہوتی۔ ایک مقامی باشندے وکیل احمد جو قلعہ کی سیر کے لیے آئے تھے کہا کہ ’ کشمیر کی مسلح شورش چونکہ ڈاؤن ٹاون شروع ہوئی، لہٰذا قلعہ کو سکیورٹی ایجنسیوں نے شہر پر نظر رکھنے کے لیے ایک واچ ٹاور کی طرح استعمال کیا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شروع میں قلعے کو گرفتار نوجوانوں پر تشدد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ قلعہ کی فصیل دو سو فٹ بلند ہے اور چاروں طرف حفاظتی چبوترے (گارڈ روم) بنے ہوئے ہیں۔ اندر دو سطحوں میں بٹے وسیع احاطے ہیں اور دونوں احاطوں میں تالاب ہیں لیکن دونوں تالاب فی الوقت آلودہ ہیں۔ اسلحہ اور گولہ بارود کے لیے قطاردرقطارتہہ خانے بنے ہوئے ہیں اور دفاعی فصیل میں فائرنگ اور توپوں سے گولہ باری کے لیے باقاعدہ مورچے بنے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجی انخلا کی تیاری؟17 November, 2006 | انڈیا پاکستان کاسکور : ایک پوائنٹ 12 December, 2006 | انڈیا اڈوانی کومشرف کا فارمولہ منظور نہیں24 December, 2006 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا مشرف فارمولہ: خیر مقدم اور تنقید26 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||