BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 July, 2007, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غیر کشمیری مزدور واپس جائیں‘

سید علی شاہ گیلانی
بھارتی فوجی نوجوان کشمیریوں میں برائیاں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے علحیدگی پسند رہنماء سید علی شاہ گیلانی نے غیر کشمیری مزدوروں کو ریاست چھوڑ دینے کو کہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ فوج کی حکمرانی میں ریاست میں شراب نوشی اور اس جیسی دیگر برائیاں پھیلا رہے ہیں۔

سید علی شاہ گیلانی نے غیر کشمیری مزدوروں کے خلاف یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب ہندوارہ ضلع میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی استحصال کے بعد قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال اور راجستھان سے آئے ہوئے ایک بڑھئی اور ایک موچی نے قبول کیا ہے کہ وہ دو مقامی افراد کے ساتھ اس جرم میں ملوث تھے۔

لڑکی کے ساتھ ریپ اور اس کے قتل کے واقعہ کے رونما ہونے کے بعد ضلع میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سید علی شاہ گیلانی نے ہزاروں مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر کشمیری مزدوروں کو کشمیر چھوڑ دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر کشمیری ایسے معاشرے سے آتے ہیں جہاں شراب نوشی اور بقول ان کے غیراخلاقی ماحول ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی فوجی ان لوگوں کو شراب فراہم کرتے ہیں اور نوجوان کشمیریوں میں برائیاں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 کشمیر میں بیشتر افراد سرکاری نوکری کو ترجیح دے رہے ہيں جس کے سبب ریاست میں مزدوروں کی کمی پیش آ رہی ہے اور مختلف ریاستوں سے لوگ کشمیر کا رخ کر رہے ہيں۔ بہار، راجستھان اور اتر پردیش سے ہزاروں افراد مزدوری کے لیے آتے ہیں

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کوششوں کا مقصد کشمیریوں کو آزادی کی لڑائی سے منحرف کرنا ہے۔ مسٹرگیلانی نے کشمیریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر کشمیری مزدوروں سے مزدوری نہ کروائیں بلکہ انہيں واپس جانے کو کہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ غیر کشمیری مزدوروں کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کشمیر میں بیشتر افراد سرکاری نوکری کو ترجیح دے رہے ہيں جس کے سبب ریاست میں مزدوروں کی کمی پیش آ رہی ہے اور مختلف ریاستوں سے لوگ کشمیر کا رخ کر رہے ہيں۔ بہار، راجستھان اور اتر پردیش سے ہزاروں افراد مزدوری کے لیے آتے ہیں اور یہاں آ کر بڑھئی، مزدور اور حجام کے طور پر کام کرتے ہيں۔

ایک دکاندار رفعی احمد کا کہنا ہے کہ ’ہر برس دوسری ریاستوں سے آنے والے مزدوروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ غیر کشمیری افراد مسٹر گیلانی کے بیان سے بے خبر ہیں اورمعمول کے طور پر اپنا کام کر رہے ہيں۔

پولیس کے اعلی اہلکار ایس ایم سہائے نے بی بی سی سے کہا کہ مسٹر گیلانی کے ’بیان کی وجہ سے اگر غیر کشمیری بھڑکتے ہیں تو مسٹر گیلانی کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد