BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 January, 2007, 08:14 GMT 13:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزدوروں کےمستقبل پرسیاست

بہاری مزدور
ملک بھر میں 55لاکھ بہاری دوسری ریاستوں میں رہتے ہیں
آسام میں بہاری مزدوروں پر حملے سے جہاں ان کی سکیورٹی حکومت کے لیے چیلینج بن گئی ہے وہیں بہار سے باہر رہ رہے پچپن لاکھ بہاریوں کے مستقبل کے متعلق سیاست شروع ہو گئی ہے۔

فی الحال شمال مشرقی ریاست آسام میں بہاری لوگوں کے قتل کے بعد نیتیش کمار کی حکومت کا اندازہ ہے کہ وہاں کم از کم دو لاکھ بہاری باشندے روزی روٹی کمانے میں لگے ہیں۔

روزی روٹی کی تلاش میں بہاری مزدور نہ صرف آسام بلکہ پورے ملک کے تمام صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

سن دوہزار ایک کی مردم شماری کے مطابق بہار کے تقریباً پچپن لاکھ لوگ ریاست کے باہر رہ رہے ہیں۔

سینیئر صحافی شری کانت کہتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں بہار سے باہر جانے کا عمل اور تیز ہوا ہے۔سرکاری سینسس رپورٹ کے مائگریشن پروفائل کے مطابق بہار کے لوگ اب بھی سب سے زیادہ تقریباً بارہ لاکھ کی تعداد میں کولکاتہ میں رہتے ہیں۔

سینسس رپورٹ کے مائگریشن پروفائل کے مطابق بہار کے لوگ اب بھی سب سے زیادہ تقریباً بارہ لاکھ کی تعداد میں کولکاتہ میں رہتے ہیں۔

کولکاتہ کے بعد تقریباً گیارہ لاکھ بہاری جھارکھنڈ میں یا تو مقیم ہیں یا وہاں نوکری کر رہے ہیں۔ان میں زیادہ تر لوگ دھنباد اور دیگر جگہوں پر کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرتے ہیں۔

دلی میں رہنے والے بہاریوں کی تعداد تقریباً ساڑھے سات لاکھ ہے۔
اسی طرح مہاراشٹر میں چار لاکھ، ہریانہ اور پنجاب میں ڈھائی ڈھائی لاکھ اور گجرات میں پونے دو لاکھ بہاری ہیں۔اس کے علاوہ چھتیس گڑھ اور اڑیسہ میں بھی بہاریوں کی تعداد کافی ہے۔

آسام کے چائے باغات اور اینٹ کی چمنیوں میں کام کرنے والے بہاریوں کی تعداد قریب پونے دو لاکھ ہے۔ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔

آسام میں بہاریوں کے قتل کے بعد ریاست میں اس بات پر دوبارہ سیاست گرم ہو رہی ہے کہ بہاریوں کو واپس بلانے کے وزیر اعلی نتیش کمار کے وعدے کا کیا ہوا۔

 ریلوے کے وزیر لالو پرساد نے بھی سوال کیا ہے کہ نتیش کمار بتائیں کہ انکے وزیر اعلی بننے کے بعد کتنے بہاری واپیس اپنے گھروں کو لوٹے ہیں؟
ریلوے کے وزیر لالو پرساد نے بھی سوال کیا ہے کہ نتیش کمار بتائیں کہ انکے وزیر اعلی بننے کے بعد کتنے بہاری واپس اپنے گھروں کو لوٹے ہیں؟

نیتیش کمار اس کا سیدھا جواب نہ دیکر یہ کہہ رہے ہیں کہ بہاریوں کو کسی بھی گوشے میں رہنےاور روزی کمانے کا حق حاصل ہے۔

جان کار کہتے ہیں کہ زیادہ تر بہاری اب بھی ریاست واپس آتے ہیں لیکن ایک اچھی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے اپنے مقام معاش کو ہی اپنا گھر بنا لیا ہے اور وہیں پر مستقل سکونت اختیار کر لی ہے۔

حکومت نے عام طور پر لوگوں کو اپنی ہی ریاست میں روزگار دینے کے لیے قومی روزگار گارنٹی سکیم بنائی ہے اس کے باوجود بہاری مزدور اپنے گھروں سے باہر روز گار میں لگے ہیں۔ پٹنہ کے ایشین ڈولپمنٹ ریسرچ انسٹیچیوٹ کے سیکریٹری شیوال گپتا بتاتے ہیں کہ قومی روزگار گارنٹی سکیم کے باوجود بہار کے لوگوں کے باہر جانے کی وجہ اب بھی روزگار کی تلاش ہی ہے۔

مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی رگھونش پرساد سنگھ نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بہار کے باقی بچے پندرہ اضلاع میں بھی قومی روزگار گارنٹی سکیم نافذ کی جائے گی۔
فی الحال یہ سکیم تیئس ضلعوں میں ہی نافذ ہے۔

مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ بہار سے نوکری کےلیے لوگوں کو باہر جانے سے روکنے کے لیے انہیں اس کے متبادل روزگار دینے کی ضرورت ہے۔

اس معاملے پر سیاست کی بابت شری کانت کہتے ہیں کہ پہلے لوگ ٹرینوں پر کسی طرح سوار ہوکر باہر جاتے تھے لیکن اب ان کے لیے غریب رتھ کے نام سے اے سی ریل گاڑی دستیاب ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد