آسام: ہندی بولنے والوں کے خوفزدہ چہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں موت کا رقص کچھ لمحوں کے لیے رک سا گیا ہے لیکن بڑی تعداد میں سکیورٹی افواج کی تعیناتی کے باوجود یہاں کی ہندی بولنے والی آبادی کے ذہنوں پر خوف کے سائے اب بھی منڈلا رہے ہیں۔ ریاست بہار سے آسام کام کے لیے آنے والے شو کمار کا کہنا ہے ’مجھے نہیں معلوم یہ لوگ ہمیں کیوں مار رہے ہیں۔ ہم غریب مزدور ہیں اوریہاں صرف روزی روٹی کمانے آتے ہیں‘۔ شو گزشتہ بارہ سال سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’میرے بھائی کو میری آنکھوں کے سامنے جمعہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس کا جسم گولیوں سے چھلنی تھا‘۔ شو کے ساتھی ناتھ پر بھی کم و بیش یہی قیامت بیتی ہے۔ جمعہ کو آسام کے یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ کے ارکان ایک کالونی میں گھس گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرکے پانچ افراد کو ہلاک کردیا۔ ناتھ کا کہنا ہے ’ ہم سب یہاں مار دیے جائیں گے‘۔
باغی نعرے لگا رہے تھے ’بہاری کتو، آسام سے نکل جاؤ‘۔ پیر کو ہندی بولنے والے مظلوم افراد نے روتے ہوئے ہندوستانی ریلوے کے وزی لالو پرساد سے فریاد کی جن کا اپنا تعلق بھی بہار سے ہے۔ مشتعل نوجوانوں کا مطالبہ تھا کہ انہیں اسلحہ فراہم کیا جائے۔ تشدد کا نشانہ بننے والے افراد نے اپنے ہلاک شدہ رشتہ داروں کی میتوں کو احتجاجاً تین روز تک نہیں جلایا۔ بارہ لاشوں کو گاؤں کی شاہراہ پر رکھا گیا اور آسام کے وزیر اعلٰی ترن گوگوئی اور باغی رہنما پریش بروا کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ لالو پرساد کی جانب سے ’کڑی فوجی کارروائی‘ کے وعدے کے بعد ان میتوں کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ لالو پرساد نے ہندی بولنے والے افراد سے کہا کہ وہ کسی قیمت پر آسام چھوڑ کر نہ جائیں۔ ’آسام پر بھی آپ لوگوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ بہار پر‘۔
تاہم ایسا جرات مندانہ بیان بھی یہاں کے ہندی بولنے والوں پر اثر نہیں کرسکا۔ جمعہ کو باغیوں کے حملے کے بعد سے یہاں کے ہزاروں افراد دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے کے لیے تیاری کررہے ہیں۔ آسام کے ایک ریلوے سٹیشن کے افسر نے بتایا ’آسام سے باہر جانے والی ٹرینیں لوگوں سے لدی ہوئی ہیں لیکن کئی لوگ ٹکٹ خریدنے کو تیار نہیں ہیں‘۔ آسام کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں تنسوکیا میں ہندی پولنے والوں کی سب سے بڑی تعداد بستی ہے۔ باغی حملوں میں جمعہ سے اب تک 70 سے زائد ہندی بولنے والے افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار نونی گوپال مہانتا کے مطابق الفا باغیوں نے آسام کی آزادی کے لیے اپنی لڑائی کا آغاز 1979 سے کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ہندی بولنے والوں کی موجودگی، آسام پر ہندستان کے کنٹرول کی علامت ہے۔ ماضی میں ہندوستانی حکومت سے باغیوں کی بات چیت کو کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ستمبر میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد باغیوں نے ہندی بولنے والوں کے خلاف کئی بم حملے بھی کیے ہیں۔ جبکہ جمعہ کا قتل عام گزشتہ دس سالہ تاریخ کا بدترین واقعہ ہے۔ | اسی بارے میں آسام: مشتبہ افراد کی تلاش جاری 09 January, 2007 | انڈیا آسام:ہندی بولنے والوں پر مزید حملے 08 January, 2007 | انڈیا چوبیس گھنٹے، اڑتالیس ہلاکتیں06 January, 2007 | انڈیا آسام: موئراباری میں کرفیو نافذ19 November, 2006 | انڈیا الفا: جنگ بندی کی معیاد ختم23 September, 2006 | انڈیا ’الفا‘ کے خلاف کارروائی معطل14 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||