آسام:ہندی بولنے والوں پر مزید حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پیر کے روز مبینہ طور پر علیحدگی پسندوں کے ایک تازہ ترین حملے میں مزید سات ہندی بولنے والے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکمران جماعت کانگرس کے ایک مقامی رہنما کو بھی باغیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔ ملک کے حساس علاقے آسام میں گزشتہ چار روز سے جاری تشدد کے ان واقعات میں اب تک 69 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں بیشتر ہندی بولنے والے افراد ہیں۔ ریاستی حکومت نے ان حملوں کے پیچھے علحیدگی پسند گروپ آسام یونائٹڈ لبریشن فرنٹ یعنی الفا کا ہاتھ بتایا ہے جبکہ الفا نے نہ تو ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی اس سے انکار کیا ہے۔ پیر کی صبح ہونے والا حملہ ایک اینٹ بنانے والی بھٹي پر کیا گيا۔
آسام میں حکمران جماعت کانگرس کے ایک مقامی رہنما کو بھی باغیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔ کانگرس کے رہنما کی ہلاکت کے بعد علاقے میں اس بات کا بھی خوف پیدا ہو گیا ہے کہ اب باغیوں نے کانگرس کے حمایتیوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ آسام کے حالات کا جائزہ لینے کے ہندوستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ سری پرکاش جیسوال کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اتوار کے روز علاقہ کے دورے کے بعد مسٹر جیسوال نے کہا تھا کہ علیحدگی پسند تنظیم الفا سے اس وقت تک مذاکرات نہیں کیے جائيں گے جب تک الفا آسام کی آزادی کے مطالبے سے دستبردار نہ ہوجائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا ’اگر علیحدگی پسند تنظیم الفا یہ سمجھتی ہے کہ تشدد کے زور پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’حکومت آسام میں امن کی بحالی کے لیے کوشاں ہے اور اگر الفا تشدد کو ترک کر کے تحریری طور پر مناسب مطالبات کے ساتھ مذاکرات کے لیے آگے آئے تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔‘
مسٹر جیسوال نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ حالات پر قابو پانے کے لیے تقریباً تین ہزار نیم فوجی دستے آسام کے لیے روانہ کیئے جائيں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس اور فوج کا آسام اور اس کی پڑوسی ریاست اروناچل پردیش میں الفا کے ٹھکانوں پر مشترکہ کارروائی کا منصوبہ تیار ہو گیا ہے اور جلد ہی کارروائی شروع کی جائے گي۔ پرکاش جیسوال نے آسام میں آباد ہندی بولنے والے آباد کاروں کو یقین دہانی کرائی کے ان کی حفاظت کے مکمل انتظامات کیے جائیں گے۔ تشدد کے واقعات میں ہندی بولنے والوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنائے جانے کے سبب آسام میں ہندی آبادی میں اضطراب پیدا ہو چکا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ہندی بولنے والےافراد تن سکیا اور ڈبروگڑھ چھو ڑ کر جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ | اسی بارے میں چوبیس گھنٹے، اڑتالیس ہلاکتیں06 January, 2007 | انڈیا گوہاٹی میں فوج کی تعیناتی پر غور25 December, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکہ: آٹھ افراد ہلاک20 November, 2006 | انڈیا آسام: موئراباری میں کرفیو نافذ19 November, 2006 | انڈیا گوہاٹی میں دھماکے: پندرہ افراد ہلاک05 November, 2006 | انڈیا ’الفا کا حکم: ہمیں ٹیکس دو‘25 September, 2006 | انڈیا الفا: جنگ بندی کی معیاد ختم23 September, 2006 | انڈیا ’الفا‘ کے خلاف کارروائی معطل14 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||