گوہاٹی میں فوج کی تعیناتی پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں گزشتہ مہینوں میں ہونے والے سلسلے وار بم دھمکوں کے بعد ریاستی انتظامیہ وہاں فوج کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔ 2006 میں ستمبر سےاب تک بم دھماکوں کے سبب گوہاٹی میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حالانکہ علیحدگی پسندوں کے تشدد سے متاثر ریاست کے کئی اضلاع میں پہلے سے ہی فوج تعینات ہے لیکن دارالحکومت گوہاٹی کی حفاظت کی ذمے داری ریاستی پولیس کے پاس ہے۔ اتوار کے روز فوج کی تعیناتی کا مسودہ یونی فائیڈ کمانڈ کی ایک مٹینگ میں پیش کیا گیا۔یونیفائڈ کمانڈ ریاستی انتظامیہ، پولیس، فوج اور مرکزی نیم فوجی دستوں کے نمائندگان کی ایک تنظیم ہے۔ یونی فائیڈ کمانڈ کا قیام نوے کے آخری عشرے میں ریاست آسام میں علیحدگی پسندی تحریک کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا۔ آسام میں خفیہ بیورو کے سربراہ خاگین سرماہ نے بتایا ’حالیہ مہینوں میں گوہاٹی میں کئی بم دھماکے ہوئے ہیں جس میں کئی افراد کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور اب اطلاعات کے مطابق حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں‘۔
الفا نے آسام میں منعقد ہونے والے ہندوستانی قومی کھیلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل انڈین گیمز فروری 2007 میں ہو نے والے ہیں۔ الفا نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریبات سے عوام کو دور رہنے کے لیے بھی کہا ہے۔ انٹیلی جینس بیورو کے چیف کےمطابق یوم جمہوریہ اور قومی کھیلوں کے پیش نظر باغیوں کے حملوں میں اضافے کے امکانات ہیں۔اور اسی کے پیش نظر علیحدگی پسندوں کی کارروائی کو ناکام بنانے کے لیے کوشش کے تحت یونی فائیڈ کمانڈ گوہاٹی میں فوج کی تعیناتی کرنا چاہتی ہے۔ مسٹر سرماہ نےگوہاٹی اور ریاست کی دوسرے مقامات پر حالیہ بم دھماکوں کی ذمہ داری علیحدگی پسند تنظیم یونائڈیڈ لیبریشن فرنٹ آف آسام یعنی الفا پر عائد کی۔ اس برس ستبمر میں علیحدگی پسندوں اور حکومت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ ناکام ہونے کے بعد سے ہی جہاں ایک طرف ریاست میں بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا وہیں حکام کی جانب سے باغیوں کے خلاف حکومت کی کارروائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ لیکن گوہاٹی میں افواج کی تعیناتی کو انسانی حقوق کے تنظیموں اور مقامی سیاسی جما عتیں کی جانب سے اختلافات کا سامنا ہو سکتا ہے کیوں کہ انسانی حقوق کی تنيظمیں اور مقامی سیاسی جماعتیں ریاست میں جاری علیحدگي پسندی ختم کرنے کے لیے دوبارہ بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کی خواہاں ہيں۔ | اسی بارے میں گوہاٹی میں دھماکے: پندرہ افراد ہلاک05 November, 2006 | انڈیا آسام: بم دھماکے میں چار ہلاک09 June, 2006 | انڈیا آسام: یومِ جمہوریہ سے قبل دھماکے23 January, 2006 | انڈیا پائپ لائن ہم نے اڑائی: الفا باغی08 August, 2005 | انڈیا انڈیا: بس حادثات میں 64 ہلاک 20 April, 2006 | انڈیا میچ منسوخ: ہنگامے میں 12 زخمی 09 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||