BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 September, 2006, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الفا: جنگ بندی کی معیاد ختم
آسام
حکومت نے آسام میں 13 اگست کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا
ہندوستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی ریاست آسام میں علیحدگی پسند تنظیم ’یونائٹڈ لِبریشن فرنٹ آف آسام‘ (الفا) اگر تحریری طور پر امن کے عمل میں حصہ لینے کی یقین دہانی نہیں کراتی ہے تو پھر جنگ بندی معاہدے میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

آسام میں الفا کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششیں چل رہی ہیں اور ماہرین کے مطابق حکومت کے اس سخت مؤقف سے امن کا عمل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائن نے آسام کی مشہور ادیبہ اندرا گو سوامی کو بتایا ہے کہ اگر الفا حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں راست طور پر شرکت کا وعدہ نہیں کرتا تو پھر باغیوں کے خلاف فوج کی کارروائی میں مزید تاخیر نہیں کی جاسکتی ہے۔

اندرا گوسوامی الفا باغیوں اور حکومت کے درمیان بات چیت کے لیئے ثالث کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ گوسوامی نے حکومت کے اس قدم کو ’افسوس ناک‘ بتایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم حکومت اور علیحدگی پسندوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ امن کے عمل پر غور کریں گے اور جلد سے جلد آپس میں بات چیت کرے گے، ہم انہیں بات چیت پر مجبور نہیں کر سکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ نارائن نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت الفا کے جواب کے لیئے کچھ دن انتظار کر سکتی ہے اور سکیورٹی افواج کو جوابی کارروائی نہ کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

مرکزی حکومت نے فوج سمیت کئی ایجینسیوں سے کئی دور کی بات چیت کے بعد یہ سخت رخ اپنایا ہے۔ الفا کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے میں بات چیت کے دوران فوج اکثر جنگ بندی معاہدے میں توسیع کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند تنظیمیں جنگ بندی کے دوران اپنی کارروائي انجام دینے کے لیئے حکمت عملی مرتب کرتی ہیں۔

ہندوستان کی حکومت اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ الفا تحریری طور پر حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل ہونے کی یقین دہانی کرے۔ حکومت نے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ اگر الفا چاہتا ہے کہ حکومت اس کے پانچ ارکان کو جیل سے رہا کرے تو حکومت کے ساتھ بات چیت میں اس کے سینئر رہنما کو شامل ہونا ہوگا۔

تاہم الفا نے حکومت کے ساتھ بات چیت میں شامل ہونے کے لیئے کوئی تحریری وعدہ نہیں کیا ہے اور وہ اپنے رہنماؤں کی رہائی کے لیئے برابر مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومت نے آسام میں 13 اگست کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کی معیاد چار بار بڑھائی جاچکی ہے۔گزشتہ بدھ کو اس کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد