’الفا کا حکم: ہمیں ٹیکس دو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ایک اہم علیحدگی پسند گروپ یونائٹیڈ لیبریشن فرنٹ آف آسام (الفا) نے شمال مشرقی ریاست آسام کے عوام کو حکم دیا ہے کہ وہ الفا کی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیئے اسے ٹیکس ادا کریں۔ الفا کا کہنا ہے کہ آسام کے مقامی لوگ یہ ٹیکس رضاکارانہ طور پر ادا کر سکتے ہیں لیکن باقی عوام کو یہ ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا۔ آسام بھارت میں چائے پیدا کرنے والی اہم ترین ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں چائے کے آٹھ سو سے زیادہ باغات ہیں اور یہاں پر کئی بڑی کمپنیاں چائے پیدا کرنے کے کاروبار میں مصروف ہیں جب کہ ان کمپنیوں میں آسام کے باہر کے کافی لوگ کام کرتے ہیں۔ حکومت نےگزشتہ جمعہ کوالفا باغیوں سےامن معاہدہ ختم کرنے کا یہ کہتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ امن سے متعلق سمجھوتے کو لاگو کرنےمیں ناکام رہا ہے۔ واضح رہے کہ الفا سن 1971 سے علیحدہ ریاست کے قیام کے لیئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ الفا یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وفاقی حکومت آسام کے کے قدرتی وسائل کا استعمال کرتی رہی ہے لیکن اس کا فائدہ آسام کے لوگوں کو نہیں ہو تا۔ | اسی بارے میں قاتل پولیس اہلکار کو شہید کا درجہ29 November, 2004 | انڈیا پائپ لائن ہم نے اڑائی: الفا باغی08 August, 2005 | انڈیا آسام: الفا باغیوں کا حملہ، دو ہلاک07 August, 2006 | انڈیا ’الفا‘ کے خلاف کارروائی معطل14 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||