چوبیس گھنٹے، اڑتالیس ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں تشدد کے دس مختلف واقعات میں اڑتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ آسام کے انٹیلیجنس چیف کھیاگین شرما کا کہنا ہے کہ تشدد کے ان واقعات کے پیچھے علیحدگی پسند تنظیم ’الفا‘ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’الفا‘نے ہندی بولنے والی آبادی کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ بھارتی حکومت نے ان ہلاکتوں کے بعد ایک اعلٰی سطحی ٹیم آسام بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تحقیقاتی ٹیم مقامی حکام، پولیس اور متاثرین سے ملاقات کرے گی۔ آسام کے انٹیلیجنس چیف کے مطابق ’بھاری تعداد میں اسلحہ سے لیس باغی دس پندرہ کی جماعت بنا کر ہندی بولنے والے افراد کی کالونیوں پر حملہ آور ہوئے اور زبردست فائرنگ کی جس کی وجہ سے کافی جانی نقصان ہوا ہے‘۔ انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ ’الفا‘ باغی اپنی حکمت عملی کے تحت ہندی بولنے والے افراد پر حملہ کر رہے ہیں تاکہ دوبارہ مذاکرات کے لیے مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھارتی حکومت اور الفا باغیوں کے درمیان جاری مذاکرات میں آنے والے تعطل کے بعد سے آسام میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ آسام کے پولیس چیف آر این ماتھر کا کہنا ہے تشدد کے حالیہ دس واقعات میں سے آٹھ تن سکیا ضلع میں پیش آئے۔ انہوں نے بتایا کہ’گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں آسام کے مختلف علاقوں میں تشدد کے دس واقعات پیش آئے ہیں جن میں آٹھ واقعات تن سکیا ضلع میں پیش آئے‘۔ تفصیلات کے مطابق تازہ ترین واقعہ ہفتے کی صبح واقعہ آسام کے دارالحکومت گوہاٹی سے چھ سو کلومیٹر دورگورا مارا گاؤں میں پیش آیا جہاں باغیوں کے ایک مبینہ حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس سے قبل جمعہ کو بھی آسام کے تن سکیا اور دبروگڑھ اضلاع میں اٹھارہ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور پولیس نے اسے بھی باغیوں کی کارروائی قرار دیا تھا۔ پولیس چیف آر این ماتھر کا کہنا تھا کہ’ مشرقی اضلاع میں ہندی بولنے والے اقلیتی مہاجرین پر حملوں کے طریقۂ کار سے لگتا ہے کہ ان کے پیچھے الفا باغیوں کا ہاتھ ہے‘۔ باغیوں نے فی الحال ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب ایک دیگر واقعے میں دیپھو اور ڈولڈونی علاقوں کے درمیان ریلوے ٹریک پر ایک بم دھماکہ بھی ہوا۔ تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت دلی سے راجدھانی ٹرین دبروگڑھ جارہی تھی۔
گزشتہ برس ستمبر میں بھارتی حکومت اور الفا باغیوں کے درمیان جاری مذاکرات میں آنے والے تعطل کے بعد سے آسام میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہی کھیلوں میں سکیورٹی کے انتظامات کے حوالے سے وفاقی سیکریٹری داخلہ وی کے دگل نے جمعرات کو گوہاٹی کا دورہ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ الفا کی دھمکیوں کے باوجود کھیلوں کے مقابلے آسام میں ہی منعقد ہوں گے۔ | اسی بارے میں گوہاٹی میں فوج کی تعیناتی پر غور25 December, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکہ: آٹھ افراد ہلاک20 November, 2006 | انڈیا آسام: موئراباری میں کرفیو نافذ19 November, 2006 | انڈیا گوہاٹی میں دھماکے: پندرہ افراد ہلاک05 November, 2006 | انڈیا ’الفا کا حکم: ہمیں ٹیکس دو‘25 September, 2006 | انڈیا الفا: جنگ بندی کی معیاد ختم23 September, 2006 | انڈیا ’الفا‘ کے خلاف کارروائی معطل14 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||