BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 January, 2007, 09:42 GMT 14:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار کے لوگ ریاست چھوڑنے پر کیوں مجبور؟
آسام
بہار کے لاکھوں مزدور ملک کی دوسری ریاستوں میں روزی روٹی کے لیے جاتے ہیں
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں گزشتہ تین دنوں کے دوران مارے گئے متعدد بہاری مزدوروں کے قتل نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ بہار کے لوگ کن مجبوریوں کے سبب ریاست سے باہر ذریعہ معاش تلاش کرنے پر مجبور ہیں؟

سابق وزیر اعلی اور حزب اختلاف کی لیڈر رابڑی دیوی نے یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام یا ’الفا‘ کے ہاتھوں چالیس بہاری مزدوروں کے قتل کے بعد وزیر اعلی نتیش کمار پر اس معاملے میں سخت تنقید کی ہے۔

رابڑی دیوی نے یاد دلایا ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے تین ماہ کے اندر اشتہار نکال کر بہار سے باہر رہ رہے مزدوروں کو واپس بلا لیا جائے گا۔

رابڑی دیوی نے کہا کہ نتیش کمار اپنی حکومت کی پہلی سالگرہ منا چکے ہیں لیکن بہار کے مزدوروں کی حالت نہیں بدلی۔انہوں نے حکومت پر سست روی کا الزام لگایا۔

واضح رہے کہ بہار کے لاکھوں مزدور پنجاب، ہریانا، آسام، مغربی بنگال، دلی اور ملک کی دوسری ریاستوں میں روزی روٹی کے لیے جاتے ہیں۔ان جگہوں پر بہار کے مزدوروں سے ناروا سلوک کی شکایات تو ملتی رہتی ہیں لیکن اجتماعی قتل کے واقعات صرف آسام میں پیش آئے ہیں۔

آسام
ریاست میں بچے بھی پرتشدد واقعات سے محفوظ نہیں

آسام میں بہار کے مزدور زیادہ تر اینٹوں کے بھٹوں میں کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ مقامی دکانوں میں کام کرتے ہیں۔بعض افراد چائے کے باغات میں بھی کام کرتے ہیں۔

ریاستی حکومت باہر رہنے والے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اعلانات تو کرتے رہتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کم ہی ہوتا ہے۔

حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جن ریاستوں میں بہار کے مزدوروں کی تعداد زیادہ ہے وہاں ایک ڈپٹی لیبر کمشنر تعینات کیا جائے گا لیکن بقول رابڑی دیوی، ’ آج تک اس پر عمل نہیں ہوا‘۔

مزدوروں کے علاوہ آسام میں بہار کے طلبا بھی مقامی لوگوں کے حملے کا شکار ہوئے ہیں جو مقابلے کےامتحان کے لیے وہاں گئے تھے۔

وزیر اعلی نتیش کمار کا کہنا ہے کہ بہار کے لوگوں کو ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے اور روزی روٹی کمانے کا حق حاصل ہے اور کوئی انہیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے قتل کے اس واقعہ کے لیے آسام کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مرکزی حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کی کی گزارش کی ہے۔ انہوں نے ہلاک شدگان کے ورثاء کے لیے ایک لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا اور آسام اور مرکزی حکومت سے بھی مدد کی اپیل کی ہے۔

دریں اثنا بہار کی حکومت نے آسام میں بہاری مزدوروں کی ہلاکت کے بعد وہاں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی آسام بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

ریاست بہار سے گزرنے والی آسام کی ٹرینوں کی حفاظت بڑھا دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد