یونیسف کا پوسٹر تنازعے کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے بیداری کی مہم کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے ’یونیسف‘ کا جاری کردہ پوسٹر ایک متنازعہ مسئلہ بن گیا ہے۔ یونیسف کے پوسٹر پر جس آٹھ سالہ بچی چونم کماری کی تصویر شائع کی کی گئی ہے اس کے والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی ادارے نے ایسا ان سے اجازت لیے بغیر کیا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے حال ہی میں قانون سازی کر کے گھروں، ریستورانوں اور ڈاھبوں پر چودہ سال سے کم عمر کے بچوں کے کام کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ بہار کےوزیر اعلی نتیش کمار نے ریاست کے ہوم کمشنر کو معاملہ کی مکمل چھان بین کرنے کا حکم دیا ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے سماجی بہبود کے شعبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ چونم کماری کو مزدوری سے نکال کر اس کے لیے متبادل انتظام کیا جائے۔ چونم اپنے والد کے ڈاھبے پر روزانہ بارہ گھنٹے کام کرتی ہے، جس میں برتن دھونا، میز کرسی صاف کرنا اور گاہکوں کے آگے کھانا رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔ چونم کے والد بلیشور داس کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی تصویر ان سے اجازت لیے بغیر استعما ل کی گئی ہے، جبکہ یونیسف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ یونیسف
یونیسیف کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ چونم یونیسف کی ’برانڈ ایمبیسڈر‘ نہیں ہے اور اس کی تصویر کا استعمال صرف چائلڈ لیبر کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ہندوستان میں تقریباً سوا کروڑ سے زائد بچے مزدوری پر مجبور ہیں، جن میں بہت سے ڈاھبوں اور ریستورانوں پر کام کرتے ہیں۔ کم عمری میں ہی روزگار سے وابستہ ہوجانے والے اکثر بچوں کےوالدین کا کہنا ہے کہ غربت کی وجہ سے وہ انہیں اپنے بچوں کو بھی کام پر لگانا پڑتا ہے۔ | اسی بارے میں بچہ مزدوری کی'پوسٹرگرل'خودمزدور 22 November, 2006 | انڈیا بچہ مزدوری پر پابندی کا قانون 10 October, 2006 | انڈیا ’بھارتی بچہ گھریلو ملازم نہیں بنےگا‘ 10 October, 2006 | انڈیا انڈیا: چائلڈ لیبر پر پابندی02 August, 2006 | انڈیا ’ممبئی کے بچے غذا کی کمی کا شکار‘17 June, 2006 | انڈیا ممبئی، بچوں مشقت کا عالمی بازار 31 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||