’بھارتی بچہ گھریلو ملازم نہیں بنےگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں بچوں کے لیئے گھریلو ملازمت غیر قانونی دے دی گئی ہے۔ پیر اور منگل کی رات بارہ بجے کے بعد سے بچوں کو گھر میں کسی بھی کام کے لیئے ملازم رکھنے والوں کو جرمانے کے علاوہ دو سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔ بھارت میں حکومت کا کہنا ہے کہ دس لاکھ کے قریب بچے اس قانون سے متاثر ہوں گے لیکن بچوں کی فلاح کے لیئے کام کرنے والی تنظیمیں اس تعداد کو اس سے کہیں زیادہ بتاتی ہیں۔ بھارت میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں گھرانوں میں پانچ سے چھ سال کی عمر کے بچوں سے گھر میں صفائی اور کھانا پکانے کے علاوہ دیگر کام لیئے جاتے ہیں۔ اس عمر کے بہت سے بچے سڑکوں کے کنارے ہوٹلوں میں بیرے کا کام بھی کرتے ہیں۔ بھارت کے قانون کے مطابق تعمیرات اور قالین بافی کی صنعت کو بچوں کے لیئے مضر قرار دیا جا چکا ہے لیکن اب گھریلو ملازمت بھی اس صف میں شامل ہو گئی ہے۔ بھارت میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے یقیناً وہ غربت ختم نہیں ہو گی جو اس صورتحال کا باعث بنتی ہے۔ بچوں کی فلاح کے لیئے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے بچوں کے متبادل مواقع کے لیئے حکومت کی طرف سے زیادہ مالی اعانت کے بغیر بہت سے بچے قانون کی نظروں سے چھپ کر لوگوں کے گھروں میں کام کرتے رہیں گے۔ |
اسی بارے میں ہندوستان: یوم آزادی کے بدلتے معنی15 August, 2006 | انڈیا بچے پھینکنے کے 20 روپے25 August, 2006 | انڈیا بھارتی پنجاب: 17بچوں کاقاتل گرفتار 30 October, 2004 | انڈیا ’اپنے والدین کی خدمت کرو‘کیلاش گیری25 August, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||