BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 August, 2006, 09:08 GMT 14:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچے پھینکنے کے 20 روپے

بچہ
مظفرپور میں ایک نالے سے پولیتھین کی تھیلی میں بند ایک ساتھ تین بچوں کی لاشیں ملیں
نوزائیدہ بچوں کا زندہ یا مردہ کسی کچرے کے ڈھیر پر ملنا بہار میں کوئی خاص بات تصور نہیں کی جا تی ہے۔ بچہ اگر زندہ رہے تو کسی لاولد کی زندگی خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اگر مردہ ملے تو پوسٹ مارٹم کے لیۓ ہسپتال کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

نوزائیدہ بچوں کو اس طرح پھینکنے والوں کا با آسانی پتہ نہیں چلتا لیکن جمعرات کو ریاست کے شمالی شہر مظفرپور میں ایک نالے سے پولیتھین کی تھیلی میں بند ایک ساتھ تین بچوں کی لاشیں ملیں تو اس گورکھ دھندے کا بھانڈا پھوٹا۔

ان نوزائیدہ بچوں کو نالےمیں پھینک کر بھاگ رہے ہسپتال کے ایک صفائی ملازم پر مقامی لوگوں کی نظر پڑ گئی۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک بچے کو پھینکنے کے لیے بیس روپے وصول کرتا ہے۔ ارجن ملک نام کے اس صفائی مزدور نے بتایا کہ وہ دو برس سے یہ کام کر رہا ہے۔ ارجن نے جس ہسپتال سے لاکر ان بچوں کو نالے میں پھینکا تھا وہ شہر کا مشہور میٹرنٹی سنٹر ہے۔

مقامی انتظامیہ نے ارجن کے پکڑے جانے کے بعد مذکورہ ہسپتال کے منتظمین کے خلاف جنین کشی کی ایف آئی آر درج کی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ وجۓ کمار نے اعلان کیا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچوں کی موت قدرتی طریقے سے نہ ہونے کی تصدیق ہوگئی تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ادھر ہسپتال کے ایک سینئر اہلکار وی وی گری کا کہنا ہے کہ زچگی کے دوران کئی بار خاندان والے بچوں کو ہسپتال میں ہی چھوڑ جاتے ہیں اور ان بچوں کو دفن کرنے کے لیۓ صفائی مزدور کو بیس روپے دیۓ جاتے ہیں۔

مسٹر گری کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی حکام سے کئی بار ایسے بچوں کو دفنانے کے لیۓ زمین کا مطالبہ کیا ہے لیکن انہیں زمین فراہم نہیں کی گئی ایسے میں یہ صفائی مزدور پر منحصر ہے کہ وہ بچوں کو کہاں دفناتا ہے۔

شہر کے مشہور ماہر اطفال ڈاکٹر برج موہن اس معاملے کو بدلتے معاشرتی حالات میں دیکھنے کی بات کہتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ چوری چھپے قائم کۓ گۓ جنسی تعلقات کی وجہ سے اسقاط حمل کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر برج موہن کے مطابق اسقاط حمل اگر ابتدائی دنوں میں ہو جائے تو پتہ نہیں چلتا لیکن جنین جب واضح شکل اختیار کر لیں تو انہیں زچگی کے بعد کہیں نہ کہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے کو اسکی جنسی شناخت کے بعد پھینکا جاتا ہے۔

ماں اور بچہدیر ہو گی تو لڑکا۔۔
دیر سے حمل، لڑکے کی پیدائش کے امکانات زیادہ
والد کے ہاتھ میں بچے کا ہاتھبچہ کیسے بولے گا؟
بچے کی پیدائش سے تین سال تک کی ریکارڈنگ
اسی بارے میں
دیر ہو گی تو لڑکا ہو گا
16 December, 2005 | نیٹ سائنس
سری لنکا: بےبی 81 کی واپسی
29 January, 2005 | آس پاس
ایک بچہ نو مائیں
14 January, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد