ایک بچہ نو مائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق سری لنکا میں نو عورتوں نےایک نامعلوم نو زائیدہ بچے کی ماں ہونے کا دعوی کیا ہے اس بچے کو بحر ہند میں آنے والے سونامی طوفان کے بعد بچا لیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق جب اس بچے کو اسپتال لایا گیا تو وہ زخمی تھا اور مٹی میں لپٹا ہوا تھا۔ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جب کچھ عورتوں نے اس بچے کی ماں ہونے کا دعوی کیا اور وہ تشدد پر اتر آئیں تو پولیس کو طلب کیا گیا۔ سونامی سے تباہ علاقوں میں ایسے بہت سے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جب اس طوفان میں اپنے بچے کھونے والے والدین نے یتیم بچوں پر اپنا دعوی کیا۔ 26 دسمبر کو آنے والے اس طوفان میں سری لنکا میں ہلاک ہونے والے 31،000افراد میں 40 فیصد بچے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق اس سانحے میں صرف سری لنکا میں ایک ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں۔ اسپتال کے افسران کے مطابق اس بچے پر کچھ لوگوں میں جھگڑا شروع ہوگیا ایک عورت نے ڈاکٹر کو مارنے کی دھمکی دی جبکہ دوسری نے کہا کہ اگر بچہ اس کے حوالے نہیں کیا گیا تو وہ خود کشی کر لے گی۔ جو لوگ اس طوفان میں اپنے بچے کھو چکے ہیں وہ ہر روز ان کی تلاش میں اسپتال آتے ہیں۔ کچھ واپس چلے جاتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ ان کا بچہ اسپتال ہی میں ہے۔ اسپتال کے افسران نے یہ کیس عدالت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور افسران کے مطابق اگر عدالت ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کہے گی تو وہ بھی کیا جائے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس بچے کے اسپتال کا بھاری بل کون بھرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||