 |  وارننگ سسٹم کے قیام میں بھارت کے بڑے ادارے انفوسس اور ٹاٹا تعاون کریں گے |
بھارت کے سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر نے کہا ہے کہ سونامی وارننگ سسٹم اگلے دو سے تین سال کے عرصے میں کام شروع کردے گا۔ کپل سبل کے مطابق ستائیس ملین ڈالر کی لاگت سے ڈیزائن کیا جانے والا یہ نظام سونامی کی رفتار اور اس علاقے کی نشاندہی کرے گا جہاں سونامی کا خطرہ سب سے زیادہ ہوگا۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب بھارتی بحریہ نے کہہ دیا ہے کہ اب سونامی کا شکار ہونے والے افراد میں سے مزید کو زندہ بچانے کا امکان بہت کم ہے۔ تاہم بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ریسکیو آپریشن جاری رکھے گی۔ بھارت کے نیول چیف ایڈمرل ارن پرکاش کا کہنا ہے ’سمندر کے بارے میں جانتے بوجھتے ہوئے اب یہ کہنا مشکل ہے کہ مزید کوئی شخص زندہ یا مردہ نکالا جاسکے گا‘۔ بھارت میں سونامی کے باعث دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ساڑھے پانچ ہزار اب تک لا پتہ ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو اینڈمان اور نکو بار کے جزائر میں مقیم تھے۔ بنگلور میں یہ اعلان کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ اس سسٹم کی تنصیب کے لیے ’ڈیپ اوشن اسسمنٹ رپورٹنگ ٹیکنالوجی‘ درکار ہوگی۔ یہ نظام سمندر میں چھ کلومیٹر کی گہرائی میں لگایا جائے گا۔ اس نظام کی تنصیب کا فیصلہ اتوار کو کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس نظام کے قیام میں بھارت کے بڑے ادارے انفوسس اور ٹاٹا نے مدد کی پیشکش کی ہے۔ |