بچہ زبان کیسے سیکھتا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ایک سائنسدان اپنے بچے کی پیدائش سے لے کر تین سال کی عمر تک کی ہر حرکت اور آواز ریکارڈ کر رہے ہیں۔ ایم آئی ٹی کے پروفیسر ڈیب رائے بچے کے بڑھنے کے ہر عمل کو محفوظ کر رہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ بچہ زبان کیسے سیکھتا ہے؟ ’ہیومن سپیچ کام‘ نامی اس پراجیکٹ میں ان کے گھر میں کیمرے اور مائیکروفون نصب کیئے گئے ہیں۔ اس عمل کے دوران چار لاکھ گھنٹوں پر مشتمل مواد اکٹھا کیا جائے گا۔ پروفیسر رائے نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’جس طرح کہ سب والدین کو پتہ ہے کہ آپ اپنے بچے کی اتنی زیادہ تصویریں اور ویڈیو نہیں بنا سکتے۔ میرے خیال میں ہم ایک بالکل نئی سطح پر جا رہے ہیں‘۔ بچوں کے زبان سیکھنے کے عمل کے بارے میں بہت اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ اگرچہ والدین کے بولنے کا سب سے زیادہ اثر سمجھا جاتا ہے لیکن بہت سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جس تیزی سے بچے ترقی کرتے ہیں اس کے اور بھی اسباب ہو سکتے ہیں۔
ان عوامل میں زبان سے متعلقہ ’جین‘ اور ماحول کے اثرات بھی شامل ہیں۔ اب تک ماحول کے اثر کا صحیح طرح سے جائزہ نہیں لیا جا سکا کیونکہ سائنسدان بچے کا اتنی زیادہ دیر تک تجزیہ نہیں کر سکے۔ لیکن اس منصوبے سے تجزیے کے لیئے بہت سا مواد مل جائے گا۔ مثال کے طور پر یہ پتہ چلے گا کہ اس بچے نے پہلا لفظ کب اور کیسے بولا؟ ایمٹ آئی ٹی کی میڈیا لیب کے ڈائریکٹر فرینک موس نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ ’جینوم‘ پراجیکٹ کے بہت قریب ہے۔ اس عمل کے دوران روزانہ 350 گیگا بائٹ ڈیٹا ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اسے تجزیے کے لیئے ایم آئی ٹی کی لیبارٹری میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر بھی اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں دانتوں کے بارے میں احتیاط برتیں14 May, 2006 | نیٹ سائنس کمپیوٹر گیمز اور تشدد پسند رویہ 10 January, 2006 | نیٹ سائنس پالتو جانور: بیماری کاخطرہ 09 October, 2005 | نیٹ سائنس حمل میں سگریٹ، اولاد بدتمیز‘01 August, 2005 | نیٹ سائنس شاید بچوں کی ہی سنی جائے26 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||