بچےاور فحاشی: سائٹس نشانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مالیاتی اور انٹرنیٹ اداروں نے مشترکہ طور پر ایک کوشش کے تحت ویب سائٹوں کے ذریعے بچوں سے متعلق فحش مواد کی تجارت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فائنینشیل کولیشن اگینسٹ چائلڈ پورنوگرافی یعنی بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف مالیاتی اتحاد نامی اس کوشش کے تحت دنیا کے اٹھارہ بڑے تجارتی ادارے اس مہم میں شامل ہیں۔ اس مہم میں شامل ہونے والوں میں بینک آف امریکہ، امریکن ایکسپریس، ماسٹر کارڈ، امریکہ آن لائن، یاہو اور مائیکروسافٹ جیسے بڑے تجارتی اداروں کے نام اہم ہیں۔ اس اتحاد میں شریک یہ ادارے ان ویب سائیٹوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں گے جو انٹرنیٹ کا فائدہ اٹھاکر بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں اور پیسہ کماتے ہیں۔ یہ ادارے ان ویب سائیٹوں کی شناخت کرنے کے بعد ان کی مالی فراہمی بند کردیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ دو سال کے اندر اس کوشش کے تحت کوئی بھی شخص ویب سائٹوں کے ذریعے بچوں سے متعلق فحش مواد کی تجارت نہیں کرسکے گا۔ اس اتحاد میں چند دیگر بڑے نام یہ ہیں: چیز گروپ، سٹی گروپ، ای۔گولڈ، پے پال، ویزہ، فرسٹ ڈیٹا کارپوریشن، بینک کارڈ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، ویلز فارگو بینک، وغیرہ۔ اس مہم میں بچوں کی فلاح و بہبود کے کچھ عالمی ادارے بھی حمایت کریں گے۔ ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ دو لاکھ ویب سائٹیں بچوں سے جنسی زیادتی کی تجارت میں سرگرم ہیں۔ لاپتہ اور زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ قانونی ادارے پوری دنیا میں اس تجارت کو روکنے کی کوشش میں ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ایسی ویب سائیٹوں کی مالی فراہمی ناکام بنائی جائے۔ | اسی بارے میں موبائل فون سے بچوں کو مزید خطرہ12 January, 2004 | نیٹ سائنس سائبر کرائم، فنڈز کی کمی02 November, 2004 | نیٹ سائنس پاکستان: فحاشی کے5ء11 لاکھ صارف23 August, 2004 | نیٹ سائنس جنسی ویب سائٹس:علیحدہ پتہ02 June, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||