’رحم مادر کا سبق یاد رکھنےکےفوائد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر بچوں سے وہ حرکات کروائی جائیں جو وہ پیدائش سے پہلے ماں کے پیٹ میں کرتے تھے تو انگریزی اور ریاضی کے مضامین میں ان کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق کو بیلفاسٹ کی کوینز یونیورسٹی کے ڈاکٹر مارٹن مکفلپس نے متعارف کروایا ہے اور اس کے نتائج نے اب تک اس بات پر شک کرنے والوں کو حیران کر دیا ہے۔ ’پرائمری موومنٹ‘ نامی تحقیق کی بنیاد اس نکتے پر ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں اپنے آپ کو نئی شروع ہونے والی زندگی کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے۔ بچےرحم مادر میں بہت سی حرکات و سکنات کرتے ہیں جو ان سے پیدائش کے بعد ایک سال کے اندر ان سے چھوٹ جاتی ہیں۔ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو ان عادات کو نہیں چھوڑتے۔ ڈاکٹر مکفلپس کا کہنا ہے کہ سکول میں طالب علموں سے وہ حرکات و سکنات کروانے کے بعد مثبت نتائج دیکھے گئے جو انہوں نے پہلی بار رحم مادر میں سیکھی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں سے موسیقی کی مدد سے یہ حرکات کروائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی نظر میں یہ فضول سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ماں کے پیٹ میں بچے کی حرکت کا مطالعہ کیا جائے تو بات میں سمجھ میں آ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن حرکات کی وہ بات کر رہے ہیں بچہ وہ ماں کے پیٹ میں تخلیقی عمل کے دوران ایک انتہائی اہم مرحلہ میں کرتا ہے۔ پرائمری سکولوں میں بچوں سے یہ حرکات کروائی جاتی تھیں لیکن اب تک اس پر کوئی باقاعدہ تجربہ نہیں ہوا تھا۔ اس سلسلے میں تیرہ سکولوں کے ایک ہزار بچوں کو تجربے میں شامل کیا گیا تھا۔ مزید تجربات کے بعد جب یہ تحقیق حتمی طور پر ثابت ہو گئی تو محکمۂ تعلیم ہر سطح پر اس کو متعارف کروا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں کم وزن نوزائیدہ بچوں میں ڈپریشن 01 July, 2005 | نیٹ سائنس ماں کا دودھ، بلڈ پریشر بہتر24 May, 2005 | نیٹ سائنس شخصیت پر پری میچور پیدائش کااثر27 February, 2006 | نیٹ سائنس بچی اپنی نانی کے پیٹ میں پلی01 October, 2005 | نیٹ سائنس شاید بچوں کی ہی سنی جائے26 July, 2005 | نیٹ سائنس شیمپو کا اثرماں کے پیٹ تک07 December, 2004 | نیٹ سائنس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||