’اپنے والدین کی خدمت کرو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گاؤں کی عورتیں کیلاش گیری برہمچاری کو سنت مہاتما کہتی ہیں جو اپنی نابینا اور بوڑھی ماں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر پورے بھارت کی تیرتھ یاترہ کرا رہے ہیں ۔ کیلاش گیری نے اب تک 6000 کلو میٹر سے زائد کا سفر کر لیا ہے ۔اپنے اس سفر کا آغاز انہوں نے آٹھ سال قبل ریاست مدھیہ پردیش میں اپنے آبائی گاؤں پائپاریہ سے کیا تھا۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو کیلاش گیری اپنے روحانی سفرکا اختتام 2013 میں وارانسی میں ہونے والے اگلے کمبھ کے میلے میں کریں گے۔اپنی ماں کو کندھوں پر بٹھا کر مقدس مقامات کا دورہ کرانے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بھگوان کی مرضی ہے‘ ۔ کیلاش گیری نے ایک بڑی لکڑی کے دونوں سروں پر دو باسکٹیں باندھ رکھی ہیں جن میں ایک میں انکی ماں بیٹھی ہیں اور دوسرے میں ان کا سامان رکھا ہوا ہے ۔ کیلاش گیری کہتے ہیں کہ ان کے کندھوں میں درد تو ہوتا ہے لیکن وہ اپنی یاترہ پوری ضرور کریں گے چاہے انہیں اور 12 برس لگ جائیں ۔
لوگ کیلاش گیری کا موازنہ ہندو مذہبی پرانوں کے کردار شرون کمار سے کرتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بوڑھے اور نابینا ماں باپ کو اسی طری اپنے کندھوں پر بٹھا کر تیرتھ یاترہ کرائی تھی۔ لوگ کیلاش گیری کو سوامی کہتے ہیں اور ان سے آشیر باد لیتے ہیں ۔ کیلاش گیری کہتے ہیں کہ میرے اس مشن کا پیغام بالکل صاف ہے : ’اپنے والدین کی خدمت کرو اگر نہیں کرو گے تو تمہارے بچے بھی تمہیں نظر انداز کریں گے ‘۔ کیلاش گیری نے بتایا کہ راستے میں لوگ انہیں پیسہ اور کھانا دیتے ہیں لیکن ان کی ماں کو انہیں کے ہاتھ کا کھانا پسند ہے ۔ کیلاش گیری کی ماں کیتھک دیوی کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا بہت اچھا ہے لیکن اب وہ تھک رہی ہیں ۔کئی مرتبہ دل کرتا ہے کہ اب بہت سفر ہوگیا گھر واپس چلی جائیں ۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||