BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 June, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ممبئی کے بچے غذا کی کمی کا شکار‘

غذائیت کی کمی کا شکار بچہ
’ہمارے پاس سر چھپانے کے لیئے چھت نہیں ہے۔ میرے شوہر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں اور گھر کی تلاش میں ہونے کی وجہ سے کام پر نہیں جا سکتے جس وجہ سے ہم کئی دنوں سے فاقے سے ہیں اور میری بچی غذا کی کمی کا شکار ہو گئی ہے۔‘

ممبئی کے بھانڈوپ میں رہنے والی بسم اللہ خان کی تین سالہ بیٹی سعیدہ خان ممبئی کے سرکاری راج واڑی ہسپتال میں داخل ہے اور سعیدہ کی طرح کئی بچے ممبئی کے مختلف ہسپتالوں میں علاج کے لیئے داخل ہیں ۔

غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق ممبئی کے سرکاری جے جے ہسپتال میں شاہدہ عثمان غنی انصاری (تین سال) اور عارفہ شیخ ( تین سال) غذا کی کمی کے باعث علاج کے لیئے لائی گئی ہیں ۔ ایک غیرسرکاری تنظیم چھیاسی بچوں کو کاما ہسپتال میں لائی تھی لیکن ہسپتال انتظامیہ نے ان میں سے صرف چار بچوں کو غذا کی کمی کا شکار بتایاہے ۔

میونسپل انتظامیہ اور ریاستی حکومت اس بات کو ماننے سے انکار کر رہی ہیں کہ یہ بچے غذا کی کمی کا شکار ہیں ۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر بچے سینے میں انفیکشن ، سردی بخار اور پیٹ کی دیگر بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں ۔ لیکن کئی غیر سرکاری تنظیمیں ممبئی کے مضافاتی اور جھوپڑ پٹی علاقوں کا دورہ کر رہی ہیں اور وہاں سے ایسے بچوں کو تلاش کر کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیئے لا رہی ہیں جو غذا کی کمی کا شکار ہیں۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن میں محکمۂ صحت کے ایڈیشنل کمشنر وجے پاٹنکر اس وقت حقوق انسانی کمشین کے جنرل سکریٹری امیتابھ چندرا اور حکومت کے دیگر سرکاری افسران کے ساتھ صحیح صورت حال کا جائزہ لینے بھانڈوپ کے چامنڈا نگر اور شیام واڑی کا دورہ کر رہے ہیں۔

مسٹر پاٹنکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’غیر سرکاری تنظیمیں جو اعداد و شمار دے رہی ہیں وہ قابل قبول نہیں ہیں ۔زیادہ تر بچے وبائی امراض کا شکار ہیں۔اب تک صرف چھ بچے ایسے ہیں جن کا وزن ان کی عمر سے کم ہے اور ان کا علاج جاری ہے‘۔ مسٹر پاٹنکر کچھ عرصہ قبل تک بچوں میں غذا کی کمی سے بیماری سے انحراف کر رہے تھے۔

ممبئی کے مضافات میں بھانڈوپ، چامنڈا نگر اور شیام واڑی جھوپڑ پٹی کےعلاقے ہیں۔ یہاں آباد جھونپڑوں کو حکومت نے تسلیم نہیں کیا ہوا اور نہ ہی ان میں سے زیادہ تر کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ یہاں پینے کا پانی اور دیگر بنیادی سہولیات بھی نہیں ہیں۔

حکومت نے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو جو راشن کارڈ دیئے ہیں اس سے انہیں تقریباً دو سال سے راشن بھی نہیں ملا ہے۔

حکومت نے غریب بچوں کے لیئے آنگن واڑی پروگرام شروع کیا تھا جس کے تحت غریب بچوں کو دو وقت مفت کھانا دیا جاتا ہے لیکن چلڈرنس ریلیف اینڈ یو (کرائی ) کے رضاکار سدھیر سدائل کا کہنا ہے کہ ’یہاں یہ اسکیم ناکام ہو چکی ہے ۔ آنگن واڑی میں کام کرنے والوں کو مہینوں کیا برسوں تنخواہ نہیں دی جاتی ہے ۔ انہیں اناج تک فراہم نہیں کیا جاتاہے اور بچوں کو دودھ بھی نہیں ملتا ہے‘۔

سدھیر کے مطابق ابھی صرف بھانڈوپ کے علاقہ کا دورہ کرنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ ’اگر ممبئی کے دیگر جھوپڑ پٹی علاقوں کا دورہ کیا جائے تو شاید یہ تعداد سینکڑوں میں جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت اس سے چشم پوشی کر رہی ہے ۔‘

ایک ماہ قبل بھانڈوپ میں میونسپل کارپوریشن نے جھوپڑیاں اجاڑ دی تھیں تبھی سے سیکڑوں بے گھر ممبئی کے آزاد میدان میں احتجاج کر رہے ہیں ۔ یہ اجڑے لوگ زیادہ تر غریب ہیں اور ان میں زیادہ تر یومیہ اجرت پر کام کر تے ہیں چھت اجڑ جانے کی وجہ سے یہ کام پر نہیں جا رہے ہیں جس کی وجہ سے سیکڑوں افراد بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

مہاراشٹر کے پانچ اضلاع ناسک ، نندوربار ، گڈھ چرولی ، امراؤتی اور اس کے اطراف میں بسے قبائلیوں میں گزشتہ برس 1590 بچے غذا کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ اعداد و شمار خود حکومت نے ممبئی ہائی کورٹ میں گزشتہ برس پیش کئے تھے۔

بال حق ابھیان کے رضاکار مدھو کانت پتھاریہ کا کہنا ہے کہ '' ممبئی کے اگر تمام جھوپڑ پٹی علاقوں میں حکومت سروے کرے گی تو شاید مہاراشٹر کے قبائلی علاقوں سے زیادہ بچے یہاں ملیں گے جو غذائیت کی کمی کا شکار ہیں ''۔ انکا کہنا ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں سے بہت سے بچوں کو بچایا گیا ہے لیکن حکومت نیند سے نہیں جاگی ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد