بھارت: تعلیم غریب بچوں کی دسترس سے باہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہلی کے مہنگے ترین مقام پر یہ ایک چمکتی دمکتی تقریب تھی۔ دھیمی دھیمی موسیقی کے سروں کے درمیان فیشن ایبل افراد ہر طرف اپنی باتوں میں مشغول تھے جبکہ باوردی بیرے چاندی کی ٹرے لیئے مشروبات پیش کررہے تھے۔ کھانے سے قبل ایک معروف تاجر لووی کھوسلہ نے اپنے نئے پروجیکٹ کا اعلان کیا جوکہ بھارت کا پہلا ’لائف سٹائل کیٹلاگ‘ ہوگا۔ یعنی لوگ اس رسالے میں موجود مہنگی یا ’امارت کی عکاس‘ اشیاء خرید سکیں گے۔ میں نے کھوسلہ سے پوچھا کہ بھارت میں کون لوگ یہ چیزیں خریدیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ نئی ’مڈل کلاس‘۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ فی الوقت بھارت میں امیر اور غریب طبقہ کے بیچ وسیع خلاء ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی تمام لوگ امیروں میں شمار ہونے لگیں گے۔
کھوسلہ کے یہ الفاظ بعض اوقات ’درست‘ لگتے ہیں۔ بھارت میں وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں بین الاقوامی اشیاء خریدنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ دہلی میں ’ آئی ٹی‘ کی بے شمار دکانیں جدید ترین ٹیکنالوجی کی اشیاء سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بے روز گار ہے جبکہ آئی ٹی شعبہ میں موجود ملازمتوں کے لیئے مناسب تعلیم یافتہ افراد موجود نہیں ہیں۔
انڈیا کی ’نیشنل ایسو سی ایشن آف سافٹ ویئر‘ کی کرن کارنک کا کہنا ہے کہ اس شعبہ کے لیئے مناسب مہارت اور تعلیم یافتہ افراد ملنا مشکل ہے۔ ’بیشتر افراد کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ ہیں‘۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں گریجویٹ کیوں نہیں ملتے۔ بھارت کے 93 فیصد لوگ ایسے ہیں جو صرف سیکنڈری سکول تک ہی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔ بھارت کی سب سے بڑی اور سب سے غریب ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں تین سے پندرہ سال تک کے بچے ایک درخت کے نیچے موجود تھے اور استاد سے اپنا سبق لے رہے تھے۔ اس تمام علاقے کا یہ عالم تھا کہ وہاں صرف ایک ٹیچر موجود تھا جو ہر عمر کے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ قریب ہی ایک سرکاری سکول کی عمارت تھی تاہم لوگوں کی شکایت تھی کہ یہ سکول ’غیر معیاری‘ ہے۔ یہاں کے بچوں میں آگے بڑھنے کا جوش وجذبہ تو موجود ہے مگر مواقع موجود نہیں ہیں۔ ان کے واحد استاد نے بتایا کہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی ان بچوں کو زمینوں پر کام کرنے کے لیئے سکول سے اٹھا لیا جاتا ہے۔
وہ افراد جو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گاؤں سے شہر آتے ہیں، ان میں سے بیشتر کا مستقبل شہر کی کچی آبادیوں میں ہوتا ہے۔ دہلی کے نواح میں ایسی ہی ایک کچی آبادی بنوال نگر میں چھوٹے چھوٹے گھروں کی بھول بھلیاں تو تھیں مگر پانی دستیاب نہیں تھا اور نہ ہی سیورج کا کوئی نظام۔ ایک سال قبل اتر پردیش سے یہاں آنے والے اٹھارہ سالہ ببلو نے بتایا کہ اس کا بڑا بھائی صرف اتنا کماتا ہے جس سے انہیں دو وقت کی روٹی ملتی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ خود ایک مکینک کی ورکشاپ میں بغیر تنخواہ کے کام کرتا ہے تاکہ کم از کم کچھ سیکھ ہی جائے۔ تاہم 25 سال قبل یہاں آنے والے انرود منڈل لا کہنا تھا کہ یہاں آنا ایک غلطی ہے ’ہم سب گاؤں میں بہتر زندگی گزار رہے تھے، یہ جگہ تو ایک جہنم ہے‘۔ بے شک بھارت کی پھلتی پھولتی معیشت سے روزگار کے نت نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ مگر گاؤں کےغریب بچوں کا مستقبل اب بھی پہلے کی طرح تاریک دکھائی دیتا ہے‘۔ | اسی بارے میں ٹرینوں پرمنڈلاتا نکسلی خطرہ28 April, 2006 | انڈیا بہار میں آرسینک کا مسئلہ03 May, 2006 | انڈیا شمالی انڈیا: بجلی کا شدید بحران06 May, 2006 | انڈیا کلپنا کے بعد سُنیتا خلائی سفر پر07 May, 2006 | انڈیا علیگڑھ: مسلمانوں کا کوٹہ نہیں05 October, 2005 | انڈیا ’مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار اس کی روح ہے‘19 April, 2006 | انڈیا ’اے ایم یواقلیتی یونیورسٹی نہیں‘05 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||