BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 May, 2006, 10:18 GMT 15:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت: تعلیم غریب بچوں کی دسترس سے باہر

دہلی
لگژری کی اشیاء اور غیر ملکی برانڈز کے لیئے امیر طبقے کی بڑھتی ہوئی مانگ
دہلی کے مہنگے ترین مقام پر یہ ایک چمکتی دمکتی تقریب تھی۔ دھیمی دھیمی موسیقی کے سروں کے درمیان فیشن ایبل افراد ہر طرف اپنی باتوں میں مشغول تھے جبکہ باوردی بیرے چاندی کی ٹرے لیئے مشروبات پیش کررہے تھے۔

کھانے سے قبل ایک معروف تاجر لووی کھوسلہ نے اپنے نئے پروجیکٹ کا اعلان کیا جوکہ بھارت کا پہلا ’لائف سٹائل کیٹلاگ‘ ہوگا۔ یعنی لوگ اس رسالے میں موجود مہنگی یا ’امارت کی عکاس‘ اشیاء خرید سکیں گے۔

میں نے کھوسلہ سے پوچھا کہ بھارت میں کون لوگ یہ چیزیں خریدیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ نئی ’مڈل کلاس‘۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ فی الوقت بھارت میں امیر اور غریب طبقہ کے بیچ وسیع خلاء ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی تمام لوگ امیروں میں شمار ہونے لگیں گے۔

زمین پر جہنم
 ’ہم سب گاؤں میں بہتر زندگی گزار رہے تھے، یہ جگہ تو ایک جہنم ہے
انرود منڈل

کھوسلہ کے یہ الفاظ بعض اوقات ’درست‘ لگتے ہیں۔ بھارت میں وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں بین الاقوامی اشیاء خریدنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

دہلی میں ’ آئی ٹی‘ کی بے شمار دکانیں جدید ترین ٹیکنالوجی کی اشیاء سے بھری پڑی ہیں۔

لیکن تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بے روز گار ہے جبکہ آئی ٹی شعبہ میں موجود ملازمتوں کے لیئے مناسب تعلیم یافتہ افراد موجود نہیں ہیں۔

اتر پردیش
بچوں میں جذبہ تو ہے مگر مواقع موجود نہیں

انڈیا کی ’نیشنل ایسو سی ایشن آف سافٹ ویئر‘ کی کرن کارنک کا کہنا ہے کہ اس شعبہ کے لیئے مناسب مہارت اور تعلیم یافتہ افراد ملنا مشکل ہے۔ ’بیشتر افراد کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ ہیں‘۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں گریجویٹ کیوں نہیں ملتے۔ بھارت کے 93 فیصد لوگ ایسے ہیں جو صرف سیکنڈری سکول تک ہی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔

بھارت کی سب سے بڑی اور سب سے غریب ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں تین سے پندرہ سال تک کے بچے ایک درخت کے نیچے موجود تھے اور استاد سے اپنا سبق لے رہے تھے۔ اس تمام علاقے کا یہ عالم تھا کہ وہاں صرف ایک ٹیچر موجود تھا جو ہر عمر کے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ قریب ہی ایک سرکاری سکول کی عمارت تھی تاہم لوگوں کی شکایت تھی کہ یہ سکول ’غیر معیاری‘ ہے۔

یہاں کے بچوں میں آگے بڑھنے کا جوش وجذبہ تو موجود ہے مگر مواقع موجود نہیں ہیں۔ ان کے واحد استاد نے بتایا کہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی ان بچوں کو زمینوں پر کام کرنے کے لیئے سکول سے اٹھا لیا جاتا ہے۔

93 فیصد افراد صرف معمولی تعلیم یافتہ
بھارت کے 93 فیصد افراد وہ ہیں جو صرف سیکنڈری سکول تک ہی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔

وہ افراد جو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گاؤں سے شہر آتے ہیں، ان میں سے بیشتر کا مستقبل شہر کی کچی آبادیوں میں ہوتا ہے۔

دہلی کے نواح میں ایسی ہی ایک کچی آبادی بنوال نگر میں چھوٹے چھوٹے گھروں کی بھول بھلیاں تو تھیں مگر پانی دستیاب نہیں تھا اور نہ ہی سیورج کا کوئی نظام۔

ایک سال قبل اتر پردیش سے یہاں آنے والے اٹھارہ سالہ ببلو نے بتایا کہ اس کا بڑا بھائی صرف اتنا کماتا ہے جس سے انہیں دو وقت کی روٹی ملتی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ خود ایک مکینک کی ورکشاپ میں بغیر تنخواہ کے کام کرتا ہے تاکہ کم از کم کچھ سیکھ ہی جائے۔

تاہم 25 سال قبل یہاں آنے والے انرود منڈل لا کہنا تھا کہ یہاں آنا ایک غلطی ہے ’ہم سب گاؤں میں بہتر زندگی گزار رہے تھے، یہ جگہ تو ایک جہنم ہے‘۔

بے شک بھارت کی پھلتی پھولتی معیشت سے روزگار کے نت نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ مگر گاؤں کےغریب بچوں کا مستقبل اب بھی پہلے کی طرح تاریک دکھائی دیتا ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد