BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 April, 2006, 10:43 GMT 15:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرینوں پرمنڈلاتا نکسلی خطرہ

نکسلی تشدد کے علاوہ بہار میں ٹرین میں ڈکیتی کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔
بہار میں دوران شب ٹرینیں چلیں یا نہیں؟ قانون کے مطابق اس کا فیصلہ وزارت ریلوے اور ریاستی حکومت کو کرنا چاہیے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ حقیقتاً اس بات کا فیصلہ ریاست میں متحرک ماؤ نواز نکسلیوں کے ہاتھوں میں ہے۔

حالیہ دنوں میں بہار اور جھارکھنڈ میں ریل گاڑی اور پٹریوں پر نکسلی شدت پسندوں کے حملے کافی تیز ہوئے ہیں۔ حالات کس قدر بگڑ چکے ہیں اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشرقی وسط ریلوے ڈویژن کے جنرل مینیجر کے سی جینا نے اعلان کیا ہےکہ اگر نکسلی تشدد میں کمی واقع نہ ہوئی تو رات کو لمبی دوری کی ٹرینوں کو بند کرنا پڑے گا۔

مسٹر جینا کا کہنا ہے کہ نکسلی تشدد سے متاثرہ علاقوں میں مناسب حفاظتی انتظام نہ ہو پائے تو جس طرح شمال مشرقی ریاستوں میں باغیوں کی کارروائی کے سبب دوران شب ٹرینوں کو بند کر دینا پڑا تھا، اسی طرح بہار اور جھارکھنڈ کے سلسلے میں بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ریلوے کی اس پریشانی کے جواب میں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کا کہنا ہے کہ رات میں ٹرینیں چلائی جائیں یا نہیں اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ریلوے آزاد ہے۔ نتیش کمار کاکہنا ہے کہ وہ خود ریلوے کی وزیر رہ چکے ہیں اور اس وقت بھی ایسا فیصلہ کرنا پڑا تھا۔

بہار اور جھارکھنڈ میں ریل پٹری اور ریلوے سٹیشنوں کو دھماکوں کے ذریعہ نقصان پہنچانے کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے اور نکسلیوں کے ہڑتال کے اعلانات سے کئی بار ٹرینیں یا تو چلائی نہیں گئیں یا انکے روٹ بدلنے پڑے ہیں۔

نکسلی تشدد کے علاوہ بہار میں ٹرین میں ڈکیتی کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔اس معاملے میں ریاستی پولس کے ترجمان آئی جی انل سنہا کا کہنا ہے کہ ریلوے کے اہلکاروں نے کبھی ٹرینوں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کے بارے میں پولیس ہیڈ کوارٹر سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے ریلوے کے اس اعلان پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار اور جھارکھنڈ سے زیادہ نکسلی تشدد تو چھتیس گڑھ میں ہے، پھر بھی وہاں رات کو ٹرینیں چل رہی ہیں۔

مسٹر سنہا نے کہا کہ تشدد اور جرائم کی وجہ سے کیا پورے ملک میں رات میں ٹرینیں نہیں چلائی جائیں گیں۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار کہتے ہیں کہ نکسلیوں کے لیۓ ریلوے ’سافٹ ٹارگٹ‘ رہے ہیں۔اس لیے ریلوے اور مقامی انتظامیہ کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انکے مطابق ریلوے کو اپنی فورس، ریلوے پروٹکشن فورس یا آر پی ایف کی طاقت بڑھانی چاہیۓ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد