ماؤ باغیوں نے سٹیشن اڑا دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں نے اتوار کو ریاست بہار کے ایک چھوٹے ریلوے سٹیشن بنسی نالا کو بم دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ اس دھماکے سے ’گیا اور کوڈرما‘ کی ریلوے لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ باغیوں نے سٹیشن کے چار افسروں کو بھی اغواء کرلیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کردیا ہے۔ بہار میں ماؤ نواز باغیوں کے بعض ساتھیوں کوپولیس نے گرفتار کرلیا تھا جس کے خلاف بطور احتجاج باغیوں نے مگدہ علاقے میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ یہ حملہ اسی ہڑتال کے دوران کیا گیا ہے اور انتظامیہ نے علاقے کے پانچ ضلعوں میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے ہیں۔ گیا، نالندہ، جہان آباد اور نوادہ جیسے حساس ضلعوں میں ریڈ الرٹ کا اعلان کردیا گیا ہے۔ پٹنہ میں بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کے بہار سے آنے والی کئی ریل گاڑیوں کی آمدورفت کو منسوخ کردیا گیا ہے جس سے مغل سرائے۔گیا اور پٹنہ۔-گیا کے درمیان چلنے والی زیادہ تر ریل گاڑیاں متاثر ہوئی ہیں۔ گزشتہ روز چار ٹرینوں کی آمدورفت منسوخ کی گئی تھی جبکہ اتوار کو سات ریل گاڑیوں کی آمدورفت منسوخ کر گئی ہے۔ اس کے علاوہ بعض ٹرینوں کے راستے بھی تبدیل کر دئیے گئے ہیں۔ نیپال سے متصل بہار کا سرحدی علاقہ ماؤ نواز باغیوں کی وجہ سے ریاستی پولیس کے لیے سخت مشکل کا سبب بنا ہوا ہے۔ بھارت اور نیپال کی سرحد سات سو کلو میٹر لمبی بتائی جاتی ہے اور چند جگہوں کوچھوڑکر کہیں کوئی پہریداری نہیں ہے۔ ریاستی پولیس کے کئی اہلکار ماؤ نواز باغیوں کے خلاف سرکاری کارروائی کی ناکامی کے دیگر اسباب کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ماؤ نواز متحرک ہیں ان کی صحیح معلومات پولیس والوں کو نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ماؤنواز باغی: بہار پولیس کا امتحان27 June, 2005 | انڈیا بہار: ماؤ باغیوں نے ساتھی چھڑا لیے 14 November, 2005 | انڈیا ماؤ نواز باغیوں کے حملے،آٹھ ہلاک10 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||