ہندوستان: یوم آزادی کے بدلتے معنی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کو آزاد ہوئے انسٹھ برس ہوگئے ہیں۔ برطانوی تسلط سے آزادی ہندوستان کی عوام نے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی تھی۔ پندرہ اگست ملک کے یوم آزادی کے طور پر ہی نہیں بلکہ اسی اجتماعی جذبے کو یاد کرنے کے لیئے منایا جاتا ہے۔ 1947 میں جب پہلا یوم آزادی منایا گیا تھا تو اس وقت پورا ہندوستان آزادی اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس دن کے معنی بھی بدل گئے ہیں۔ 15 اگست سنہ 1947 کو ایک نئے اور جمہوری ہندوستان کا دنیا کے نقشے پر ظہور ہوا تھا۔ جن لوگوں نے آزادی کے اس خواب کو پورا ہوتے ہوئے دیکھا تھا ان کے ذہن میں پہلے یوم آزادی کے جشن کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ مشہور ادیب اور سماجی کارکن قمر آزاد ہاشمی نے آزادی کی جدوجہد کو شدت سے محسوس کیا تھا۔ان کے لئے آج بھی پہلے یوم آزادی کے جشن کو بھلانا مشکل ہے۔ ’پہلے یوم آزادی کے جشن کے دن اتنی بھیڑ تھی کہ ہم نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ بھیڑ کی وجہ سے ہم آگے نہیں جا پائے اور پنڈت نہرو کی تقریر بھی نہیں سن پاۓ تھے۔ ہم ریگل سنیما کے پاس بیٹھے تھے اور ہم نے ترنگے کے رنگ کی آئیس کریم کھائی تھی۔ بھیڑ کی وجہ سے ہمیں کوئی سواری نہیں ملی اور رات کے بارہ بجے ہم گھر پہنچے۔‘ موقر اخبار انقلاب کے سینئر صحافی فضیل جعفری بتاتے ہیں کہ ’ ہر طرف صرف خوشی کا سماں تھا۔ 1947 میں آزادی کی خوشی میں جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ جو بچے کسی جماعت میں فیل ہوگۓ تھے انہیں پاس کردیا گیا تھا۔ میں ساتویں جماعت میں فیل ہوگیا تھا اور مجھے آٹھویں جماعت میں بھیج دیا گیا۔ میں پہلا یوم آزادی کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ اس کے بعد میں کبھی فیل نہیں ہوا۔‘ معروف نقاد اور ادیب شمس الرحمن فاروقی کا کہنا ہے کہ پہلے یوم آزادی کے جشن ان کے ہندوستانی ہونے کے پہلے احساس کی یاد دلاتا ہے۔ ’ ہمارے اسکول میں یوم آزادی کو ایک جلسہ ہو ا تھا۔ اور اس جلسے میں ہمارے اسکول کے منیجر جو آسٹریلین تھے آئے اور انہوں نے ہمارے جھنڈے کے سامنے اپنی ٹوپی جھکائی۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ کل تک جو لوگ ہمارے جھنڈے کو پیروں تلے روندتے تھے وہ اسے سلام کر رہے ہیں۔ اس وقت میں نے بڑا فخر محسوس کیا۔‘ لیکن وقت بدلا، اور وقت کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لیۓ یوم آزادی کا مطلب بھی بدل گیا۔
اکیس سالہ سنجے شرما کا کہنا ہے ’ پندرہ اگست کے دن ہم سب دوست مل کر کبھی الوداع نہ کہنا دیکھنے جائیں گے۔ اس کے بعد ہم لوگ ڈانس پارٹی کریں گے، خوب موج مستی کریں گے۔‘ کومل پریت سنگھ کالج جاتی ہیں اور پندرہ اگست کے دن وہ چھٹی کا مزا لیتی ہیں۔’ کالج میں چھوٹا سا جلسہ ہوتا ہے باقی دن تو میں چھٹی مناتی ہوں۔‘ کچھ نوجوانوں کے ذہن میں سلامتی کے خدشات بھی ہیں۔ شالینی سنگھ میڈیا اسٹڈیز میں ڈپلومہ کررہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’ آج کل پندرہ اگست پر زیادہ خوش نہیں ہوتے ہیں۔ پتنگیں بھی نہیں اڑتی دکھ رہی ہیں۔ ہم لوگ انڈیا گیٹ جائیں گی اور ما لز دیکھیں جائیں گی لیکن ہم اپنی حفاظت کے لیئے کافی فکر مند ہیں۔‘ تئیس سالہ بھرت کمار کا کہنا تھا کہ ’میں بھی اپنے ماں باپ اور دوستوں کے ساتھ انڈیا گیٹ جانا چاہتا ہوں اور پتنگیں اڑانا چاہتا ہوں لیکن آج کل ٹی وی میں خبریں آرہی ہیں کہ باہر جانا محفوظ نہیں ہے تو بتایئے ایسے حالات میں کوئی یوم آزادی کا جشن کیسے مناۓ گا۔‘ انسٹھ برس پہلے ہندوستان کا تقریبا ہر باشندہ برطانوی تسلط کے خاتمے پر ملک کی آزادی کے جشن میں شریک تھا۔ نصف صدی کے گزر جانے کے بعد ہندوستان دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریتوں میں سے ایک ہے اور اب وہ آزادی کے سفر سے ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے نصب العین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن منزل کے حصول میں اسے غربت ، بے روزگاری اور ایسے ہی کئی اہم مسائل سے آزادی حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ | اسی بارے میں یوم جمہوریہ، تشدد کے واقعات 26 January, 2006 | انڈیا انڈیا: یومِ آزادی، حملوں کا خطرہ 12 August, 2006 | انڈیا کشمیر کی آزادی کا میرا خواب20 May, 2006 | انڈیا یوم آزادی: آسام، بنگال میں ہڑتال10 August, 2005 | انڈیا آسام: یومِ جمہوریہ سے قبل دھماکے23 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||