یوم جمہوریہ، تشدد کے واقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے موقع پر ملک کے کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔ پورے ملک میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے لیکن بعض علاقوں میں ماؤ نواز باغیوں کے حملوں میں کچھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ شمال مشرقی ریاست آسام اور منی پور میں علیحٰدگی پسندوں نے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیاتھا۔ بدھ کی رات بہار کے ایک پولیس سٹیشن پرماؤ نوازوں کے حملے میں تین پولیس اہل کار زخمی ہوئے۔ ایک دوسرے واقعے میں بہار میں ہی ایک ریلوے لائن کو بم سے اڑا دیا گیا ہے۔ جھارکھنڈ، آسام اور بہار کے علاوہ بعض دیگر علاقوں سے بھی دھماکوں کی خبریں ہیں۔ پولیس کے ایک سینئر افسر راجیو کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ چھبیس جنوری کے روز کی تقریبات کے لیے حفاظتی بند وبست سخت کیے گئے تھے۔ خاص طور پر اہم تنصیبات کی سخت نگرانی کی جارہی ہے لیکن یوم جمہوریہ کی تقریبات کی مخالفت کرنے والے شدت پسند بعض مقامات پر کاروائی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بھی اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ عام طور پر 26 جنوری کو اس علاقے میں بھی تشدد کا اندیشہ رہتا ہے اس لیے فوج کو چوکس کر دیا گیا تھا۔
دارالحکومت دلی میں زبردست حفاظتی انتظامات کے درمیان یوم جمہوریہ کی رنگا رنگ تقریب منائی گئی اور کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ روایتی پریڈ میں ملک کی دفاعی قوت کی نمائش کی گئی اور دیگر فوجی پریڈ کے موقع پر صدر عبدالکلام اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے علاوہ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز السعود مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔ فوجی دستوں کی پریڈ کے بعد ملک کی ریاستوں سے مختلف طرح کے ثقافتی پروگرام پیش کیے۔ | اسی بارے میں بھارت:یوم جمہوریہ کی تقریبات26 January, 2005 | انڈیا آسام: یومِ جمہوریہ سے قبل دھماکے23 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||