بچہ مزدوری پر پابندی کا قانون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں منگل کو ایک نیا قانون نافذ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت 14 سال سے کم کے بچوں سے گھروں، دکانوں اور ڈھابوں میں پر بھی کام نہیں لیا جا سکے گا۔ حکومت نے 1986میں بچوں سے مزدوری سے متعلق ایک قانون بنایا تھا جس کے تحت فیکٹریوں اور کسی بھی کارخانے میں 14برس سے کم عمر کے بچوں کے کام کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ حکومت نے اسی قانون میں ترمیم کی ہے اور بچہ مزدوری پر مکمل طور سے پابندی لگانے کے لیےاب بچوں کے گھروں اور ڈھابوں میں کام پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب 14 برس سے کم عمر کے بچے گھروں اور ڈھابوں میں بھی کام نہیں کرسکتے ہیں۔ ہندوستان میں فیکٹریوں اور چائے کے ڈھابو میں بچوں کا کام کرنا عام بات ہے۔ یہ بچے کم پیسوں میں دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کے مطابق اس نئے قانون میں یہ نہیں بتایا گیا ہے یہ بچے کام نہیں کریں گے تو کیا کریں گے اور حکومت ان کے رہنے، پڑھنے اور ديگر ضروریات کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے۔ دلی میں مزدور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’بٹرفلائی‘ کی ڈائریکٹر ریٹا پانیکر کا کہنا ہے کہ ’ہمیں نہیں پتہ کہ حکومت اس پابندی کے بعد بچوں کے ری ہیبلی ٹیشن کے لیے کیا کیا کام رہی ہے۔ اگر حکومت کچھ انتظامات نہیں کرتی ہے تو بچے کام تو ضرور کریں گے لیکن قانون کے ڈر سے کسی کو بتائیں گے بھی نہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا ان کی تعداد کا بھی پتہ نہیں چلےگا‘۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کا خیال ہے کہ اس وقت ہندوستان میں ایک کروڑ سے زائد بچے مزدوری کر رہے ہیں لیکن حکومت کے پاس ایسے اعداد و شمار نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کو یہ علم بھی نہیں کہ یہ بچے کہاں کام کر رہے ہیں اور انہیں بسانے کا کام کیسے کیا جائے۔ ہیومن رائٹ لا نٹ ورک کی کارکن آتریے سین کا کہنا ہے کہ ’اگر حکومت ان بچوں کے رہنے اور پڑھنے کے لیے انتظام نہیں کریگی تو ان بچوں کا استعمال ڈرگ ٹریفیکنگ، اونٹوں کی دوڑ اور جسم فروشی جیسے جحرائم میں کیا جائے گا۔ کیونکہ انہیں کسی نہ کسی طرح اپنی گزر تو کرنی ہی ہے‘۔ انسانی حقوق کے کارکن مسٹر جیری پنٹو کا خیال ہے کہ تمام بچے غریبی کے سبب ہندوستانوں کے دوسرے شہروں اور گاؤں سے دلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ان بچوں کا اکثر کام کے ساتھ کئی طرح ِ جسمانی اور جنسی استحصال ہوتا ہے۔ انکا خیال ہے کہ ’حکومت کو غیر سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر ایسے پروگرامز بنانے ہونگے جن کے تحت ان بچوں کو تعلیم اور صحت کے سہولتیں حاصل ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ یہ مزدور بچے صحیح سلامت اپنے گھر پہنچیں۔ وزارت محنت کے ایک سینئر اہلکار ایس کے سری واستو کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس قانون کے نفاذ سے پہلے ہی بچوں کی باز آباد کاری کے متبادل انتظامات کیے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ بچوں کی باز آبادکاری کے لیے کام کرنا ہے اور حکومت نے اس کے لیے جتنا پیسہ دیا ہے اسکا صحیح استمعال ہوگا۔ حکومت نے بچوں کے ویلفیئر کے لیے کئی سکیمیں چلائی ہیں اور ہم اس کا استعمال بچوں کو بسانے کے لیے کریں گے‘۔ بچہ مزدوری سے متعلق حکومت نے 1986 میں بھی قانون بنایا تھا لیکن یہ قانون مکمل طور پر بے اثر ثابت ہوا اور آج بھی فیکٹریوں، کارخانوں اور دیگر صنعتی مراکز میں بچے کام کرتے ہیں۔ نئے قانون کے مطابق اگر کوئی بھی شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے تین ماہ سے لے کر دو برس تک کی قید یا پھر بیس ہزار تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ |
اسی بارے میں ’بھارتی بچہ گھریلو ملازم نہیں بنےگا‘ 10 October, 2006 | انڈیا جنگیں، 43 ملین بچے سکول سے باہر12 September, 2006 | آس پاس شرابی والدین کے بچے مشکل میں04 September, 2006 | نیٹ سائنس لبنان: متاثرین میں بچے آگے آگے 04 August, 2006 | آس پاس انڈیا: چائلڈ لیبر پر پابندی02 August, 2006 | انڈیا انڈیا: گڑھے میں پھنسا بچہ بچالیا گیا23 July, 2006 | انڈیا کشمیری بچے انڈین حکام کے حوالے22 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||