BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 September, 2006, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شرابی والدین کے بچے مشکل میں
نشے کے عادی والدین کے بچوں میں بھی نشے کا رحجان ہوتا ہے
شراب کے عادی خاندان کے بچوں کو جذباتی اور زہنی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے بچوں میں نشہ آور مشروبات ،گولیاں استعمال کرنے اور جوا کھیلنے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔

صحت سے متعلق سہولیات مہیا کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کی ابتدائی زندگی الجھن، خوف، پریشانی، شرم اور بعض اوقات جسمانی اور جنسی مسائل سے بھری ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچپن فیصد گھریلو تشدد ان گھروں میں ہوتا ہے جن میں نشہ آور مشروب کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے مرتب کرنے میں ڈاکٹروں اور تھراپی کرنے والوں کی رائے لی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نشہ آور مشروب استعمال کرنے والے والدین کے بچوں کو اپنی آخری عمر میں بھی شدید نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نشے کے عادی خاندانوں کی ہر تیسری بیٹی کو جسمانی بد سلوکی اور ہر پانچویں بیٹی کو جنسی بدسلوکی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور یہ ان گھروں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے جہاں نشے کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

ایسے بچے مختلف طریقوں سے ان حالات سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ چند اس ماحول سے بھاگ جاتے ہیں اور اپنے تجربات سے سیکھتے ہیں۔ اپنے تجربات سےسیکھنے والے بچے بہت ہی شفیق اور مہربان ثابت ہوتے ہیں۔

اصل مسئلہ ان بچوں کو ہوتا ہے جنہیں ان مسائل کا براہ راست سامنا ہوتا ہے۔ ایسے بچے خود کو غیر محفوظ اور ناکامیاب تصور کرتے ہیں۔ ان بچوں کو اپنے تعلقات مضبوط بنانے کے لیئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔

گزشتہ تحقیق کے مطابق نشے کے عادی خاندانوں کے ستر فیصد بچوں کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا جن میں سے آدھے اس نشے کو اپنا لیتے تھے اور آدھے نشے کے عادی افراد سے ہی شادی کر لیتے تھے۔

ڈاکٹر مائیکل برسٹو کا کہنا ہے کہ یہ غلط فہمی بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے کہ نشہ آور چیزیں صرف نشے کے لیئے استعمال کے جاتی ہیں اور اس سے نقصان صرف استعمال کرنے والوں کو ہوتا ہے۔ مگر ایسا بلکل نہیں ہے کیونکہ نشہ کرنے والوں کے خاندان کو بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

ویسٹ آف انگلینڈ کی یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن پلانٹ کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق حیرت ناک نتائج پر مبنی نہیں ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ اس سے نمٹا کیسے جائے۔ ایسے بچوں کو ہمت کر کے اس چکر سے نکلنا ہو گا اور خود کو نشے کے ہاتھوں اپنے والدین کی طرح تباہ ہونے سے بچانا ہو گا۔

اسی بارے میں
’زلزلے کے یتیم‘
28 May, 2006 | پاکستان
بچوں کے لیئے 90 منٹ ورزش
21 July, 2006 | نیٹ سائنس
منشیات کے عادی برطانوی مسلمان
15 July, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد