بچوں کے لیئے 90 منٹ ورزش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو روزانہ کم از کم 90 منٹ ورزش کرنی چاہیے۔ ان دنوں برطانیہ میں جن ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے ان کے مطابق بچوں کے لیے ایک گھنٹہ ورزش ضروری تھی لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ سکول جانے والے ہر دس بچوں میں سے صرف ایک بچہ یہ حد پوری کرتا ہے۔ دا لانسیٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کی مطابق بچوں کو موٹاپے اور دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے اپنی کھیل کود اور ورزش کی سرگرمی کو بڑھانا ہو گا۔ محکمہ صحت کے مطابق وہ اس تحقیق کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا ان کی موجودہ ہدایات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ اگر موجودہ صورتحال برقررار رہی تو 2020 تک برطانیہ کے پچاس فیصد بچے موٹاپے کے رجحان کا شکار ہو جائیں گے۔ موجودہ تحقیق کرنے والوں کے مطابق بچوں میں ورزش کے رجحان کو بڑھانا، نہ صرف ان میں موٹاپے کے رجحان کو روکنے کے لیے ضروری ہے بلکہ مستقبل میں ان بیماریوں سے بھی بچانا ہے جو زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے سے لاحق ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق میں نو سے بارہ سال عمر کے درمیان 1730 بچوں کا جائزہ لیا ہے۔ ان بچوں کا تعلق ڈنمارک، ایسطونیا اور پرتگال سے تھا۔ انہوں نے ہر بچے میں اس بات کا جائزہ لیا کہ اس میں بلڈ پریشر، دل کی بیماری، موٹاپے اور کیلسٹرول، کا کتنا خطرہ ہے۔ اور پھر ہر بچے کی ہفتہ وار چھٹی اور ہفتے کے دو دنوں کے دوران سرگرمی کا جائزہ لینے کے لیے اس کو مانیٹر پہنایا گیا۔ اس تجزیے سے ماہرین کو یہ پتا چلا کہ جب بچے ورزش اور کھیل کود کرتے ہیں تو ان میں دل کی بیماری میں لاحق ہونے کا خطرہ بہت حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اُوسلو کے ناروجین سکول آف سپورٹس سائنسز کے پروفیسر لارس بو انڈرسن ٹیم اس بات پر ذور دے رہی ہے کہ بچوں کو پورے دن کے مختلف دورانیوں میں 90 منٹ کی ورزش کرنی چاہیے۔
نیوائل رگبی آف اوبیسٹی ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ ’ جب آپ اپنے بچے کو گاڑی میں سکول کے گیٹ پر اتارتے ہیں تو آپ کسی طرح بھی اپنے بچے کو موٹاپے سے دور رکھنے کے لیے اس کی مدد نہیں کر رہے۔اس سے پہلے کی نسل کو پیدل یا پھر سائکل میں سکول جانا پڑتا تھا‘۔ برطانوی محکمۂ صحت کے ترجمان کے مطابق’اس نئی تحقیق پر غور کیا جائے گا اور پالیسی بنانے والے ہر طرح سے یہ کوشسش کریں گے کہ 2010 تک گیارہ سال سے کم عمر کے بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کے رجحان کو کم کریں۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ کئی ایسی سکیموں پر کام کر رہے ہیں جن سے بچوں کی ورزش کی سرگرمیوں کو بڑھایا جائے گا۔ برٹش ہیلتھ فاؤنڈیشن کے سٹیو شیفلبرگ نے کہا ہے کہ ’ بچوں میں زندگی بھر کے لیے ورزش کا صحت مند رجحان پیدا کرنے کے لیے کئی گروپوں کو متحد ہو کر کام کرنی کی ضرورت ہے۔‘ | اسی بارے میں وڈیو گیمز بچوں کو قاتل بناتی ہیں؟ 01 February, 2004 | نیٹ سائنس دوتہائی امریکی موٹاپے کا شکار13 January, 2005 | نیٹ سائنس امریکیوں میں جان لیوامٹاپا10 March, 2004 | نیٹ سائنس بچوں کی میڈونا14 September, 2003 | صفحۂ اول جنگ اور بچوں کے نفسیاتی مسائل31.03.2003 | صفحۂ اول بڑوں نے بچوں کو مایوس کیا ہے: کوفی عنان08.05.2002 | صفحۂ اول بچوں کے ذہن پڑھنے والی مائیں زیادہ اچھی31 May, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||