وڈیو گیمز بچوں کو قاتل بناتی ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’سب سے اہم بات یہ ہے کہ موج کرو‘۔ یہ مکالمہ ہے گزشتہ ہفتے ریلیز ہونے والی فلم ’ایلیفنٹ‘ کے ایک کردار کا۔ اس فلم کو فرانس میں کینز فلمی میلے میں انعام بھی ملا۔ یہ فلم ایک ہائی اسکول میں طالب علموں کے قتل عام کے حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔ مذکورہ مکالمہ فلم میں قتل کا منصوبہ بنانے والے لڑکے کی زبان سے ادا ہوا تھا۔ اس فلم کے آغاز سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بچوں کے ساتھ کچھ برا ہونا والا ہے اور قاتلوں کی نشاندہی بھی فلم کی ابتدا میں ہی کر دی جاتی ہے۔ اس فلم میں بچوں کو یورپ کے مشہور موسیقار بیتھوون کی موسیقی سنتے بھی اور انٹرنیٹ پر پستول خریدنے کے ساتھ ساتھ ایسی وڈیو گیمز کھیلتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے جن میں وہ فائرنگ کرتے ہیں۔ فلم کے ہدایت کار فان سانٹ نے ان معاشی برائیوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو بچوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان میں ٹیلی ویژن پر نازیوں کی کارروائیاں، پر تشدد ویڈیو گیمز اور انٹرنیٹ پر پستول خریدنے کی سہولت شامل ہیں۔ فان سانٹ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا بچے صرف ثقافت کے پُر تشدد عناصر سے رابطے یا بدمعاشی کےتجربے سے گزرنے سے قاتل بن سکتے ہیں؟ فلم کے ڈائریکٹر فان سانٹ نے وڈیو گیمز کے اثرات کو جاننے کے لئے خود بھی کچھ گیمز کھیلیں۔ ’ڈوم‘ نامی ایک گیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بہت مائل کرنے والی ہے۔ تاہم وہ بہت سے ذرائع ابلاغ کی طرح فوری طور پر وڈیو گیمز پر مکمل ذمہ داری ڈالنے پر رضا مند نظر نہیں آتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||