BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 July, 2006, 02:10 GMT 07:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری بچے انڈین حکام کے حوالے

ماضی میں لائن آف کنٹرول کو غلطی سے بھی کراس کرنے والوں کو جیل میں رہنا پڑتا تھا۔
پاکستانی حکام نے ان دو کشمیری بچوں کو جمعے کے روز انڈین حکام کے حوالے کر دیا ہے جو چند روز پہلےغلطی سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوگئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے پندرہ سالہ محمد شفیع اور سولہ سالہ شاہجہاں کو جنوبی ضلع رولاکوٹ میں تیتری نوٹ چک دا باغ کراسنگ پوائنٹ پر انڈین حکام کے حوالے کیا گیا۔

جس مقام پر بچوں کو انڈین حکام کے حوالے کیا گیا یہ ان پانچ کراسنگ پوائنٹس میں شامل ہے جن کو بھارت اور پاکستان کی طرف سے زلزے کے بعد کشمیریوں کی آمد ورفت کے لیئے کھولا گیا تھا۔

یہ وہی مقام ہے جہاں سے دونوں کشمیر کو ملانے والی پونچھ راولاکوٹ بس سروس کے مسافر پیدل سفر کرکے لائن آف کنڑول کو عبور کرتے ہیں۔ دونوں کشمیر کو ملانے والی یہ دوسری بس سروس اس سال بیس جون کو شروع کی گئی تھی ۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب ان بچوں کو بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا اس موقع پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم ہندوستان اور پاکستان کے لیئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے دو اراکین بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھارتی حکام کے علاوہ بچوں کے خاندان والے بھی موجود تھے۔

آٹھویں جماعت کے طالب علم یہ بچے تین روز قبل قبل کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے تھے جہاں ان کو پاکستانی حکام نے ان کو اپنی حراست میں لے لیا۔

حکام کا کہنا ہے ان بچوں کی گمشدگی کے بعد بھارتی حکام نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا اور انھوں نے بچوں کی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجودگی کی تصدیق کی۔

اسکے بعد حکام کے مطابق دونوں طرف سے باہمی صلاح مشورے کے بعد یہ طے کیا گیا کہ بچوں کو تیری نوٹ چک دا باغ کراسنگ پوائنٹ سے واپس اپنے گھر بھیجا جائے گا۔

بعض اوقات ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ دونوں طرف سے لوگ غلطی سے لائن آف کنڑول عبور کرکے ایک دوسرے کے علاقوں میں داخل ہوجاتے ہیں اور ان کو دونوں طرف کے حکام حراست میں لے لیتے ہیں اور بعد میں ان کو واپس کردیا جاتا ہے۔

لیکن ماضی میں اس عمل میں خاصہ عرصہ لگ جاتا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد