زلزلے میں بچ جانے والابچہ سرینگرروانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیدا ہونے والا ڈھائی سالہ موویزاپنے دادا کے ہمراہ انڈیا اور پاکستان کو تقسیم کرنے والی سر حد عبور کر کے انڈیا میں داخل ہوگیا ہے۔ موویز نے یہ سرحد اس وقت عبور کی جب انڈیا نے اس کو انسانی ہمدردی کے تحت پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی والدہ انڈیا کی شہری تھیں جبکہ والد پاکستانی تھے۔ دونوں میاں بیوی آٹھ اکتوبر کے زلزے میں ہلاک ہوگئے تھے اور اس وقت اس بچے کے پاس انڈیا یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک بھی شہریت نہیں تھی۔ موویز نے بالا آخر لاہور شہر کے قریب واقع واہگہ کے مقام پر جمعے کے روز اپنے دادا عبدالاحد کے ہمراہ سرحد عبور کی اور انڈیا پہنچ گئے۔ پاکستان میں مویز کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے ان کو نہیں روکا اور ان کو سرحد عبور کرنے دی ۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد کی دوسری جانب انڈیا کے حکام نے مویز، ان کے دادا، موویز کے بڑے بھائی پانچ سالہ سدیس اور ان کے چچا زاد بھائی کو کئی گھنٹے حراست میں رکھا اور بعد میں انہیں سرینگر جانے کی اجازت دے دی۔ ان کو حراست میں یہ کہہ کر رکھا گیا کہ ان کے پاس سفری دستاویزات نہیں تھے۔ در اصل یہ لوگ انڈیا کے ہائی کمیشن کی طرف سے اجازت ملنے سے پہلے سرحد عبور کر گئے تھے۔ بچے کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ بچے کے دادا کی خراب صحت کی وجہ سے پاسپورٹ کا انتطار نہیں کرسکتے تھے۔ ا
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے آئے ہوئے اس بچے کے دادا عبدالاحد اپنے پوتے کو سرینگر لے جانے کے لیئے پچھلے تین ماہ سے پاکستان میں موجود تھے۔ پاکستان نے موویز کو سفری دستایزات دینے سے انکار کردیا تھا لیکن ان کے دادا کو انہیں ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی تھی ۔ اس کے بعد عبدالاحد نے موویز کی سفری دستاویزات کے لیئے اسلام آباد میں انڈیا کے ہائی کمیشن میں درخواست دی جو منظور ہوگئی ہے۔ موویز اسحاق کے والد محمد اسحاق کا تعلق بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تھا اور وہ کوئی دس سال پہلے مظفرآباد آئے تھے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے تھے اور انہوں نے پاکستانی شہریت حاصل کی تھی۔ ان کی شادی بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی فاطمہ سے سن دو ہزار میں مظفرآباد میں ہوئی تھی۔ شادی کے بعد فاطمہ اپنے والدین سے ملاقات کرنے سرینگر گئیں جہاں انہوں نے اپنے پہلے بیٹے سدیس کو جنم دیا اور یوں سدیس کو انڈیا کی شہریت ملی۔ فاطمہ سن دو ہزار دو میں اپنے بیٹے سدیس کے ہمرا مظفرآباد میں مقیم اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیئے انڈیا کے پاسپورٹ پر واپس آئیں۔ اس دوران فاطمہ نے مظفرآباد میں دوسرے بیٹے کو جنم دیا اور اس کا نام موویز رکھا۔ محمد اسحاق اور ان کی اہلیہ فاطمہ آٹھ اکتوبر کے زلزے میں مظفرآباد میں ہلاک ہوگئے تھے اور ان کے یہ دو بچے موویز اور سدیس معجزانہ طور پر بچ گئے۔ موویز اب اپنے آبائی گھر شہر سرینگر کی طرف روانہ ہے جہاں اسکی پرورش اپنے دادا کی سرپرستی میں ہوگی۔ | اسی بارے میں کشمیری بچے کی شہریت کا مسئلہ 29 May, 2006 | پاکستان کشمیری بچے کے لیئےانڈین پاسپورٹ02 June, 2006 | پاکستان کشمیری بچے کی شہریت: ویڈیو دیکھیں01 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||