BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 April, 2006, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کنٹرول لائن سے دور رہیں گے‘

لائن آف کنڑول
اپریل کے وسط میں بعض تنظیموں کو ایل او سی کے قریب پرواز کی اجازت نہیں دی گئی
اقوام متحدہ نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے قریب اپنی امدادی پروازیں نہیں کریں گے۔

یہ تجویز اس وقت دی گئی جب اقوام متحدہ کے کہنے کے مطابق حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت کچھ تنظیموں کو لائن آف کنڑول کے قریب پرواز کی اجازت نہیں دی۔ زلزلے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت پاکستان نے امدادی کاموں میں مصروف عالمی اداروں کو لائن آف کنڑول کے قریب پرواز کرنے سے روک دیا ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کی ایک خاتون اہلکار رانیا دگاش نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اس ماہ کے وسط میں بعض عالمی تنظیموں کو لائن آف کنڑول کے قریب پرواز کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ کچھ امدادی پروازوں نے مبینہ طور پر غلطی سے لائن آف کنڑول کی خلاف ورزی کی اور ہندوستان کی حکومت نے پاکستان کی حکومت سے اس کی شکایت کی ہے۔

بظاہر یہی لگتا ہے کہ ہندوستان کی شکایت کے بعد حکومت پاکستان نے یہ اقدام اٹھایا ہے اور اس صورتحال کے بعد اقوام متحدہ کی اہلکار رانیا کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی پریشانی سے بچنے کے لیئے انھوں نے حکومت پاکستان کو یہ تجویز دی ہے کہ وہ لائن آف کنڑول کے پانچ کلومیڑ کے علاقے میں پرواز نہیں کریں گے۔ لیکن ابھی یہ معلوم نہیں کہ آیا حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی تجویز سے اتفاق ہے یا نہیں۔

 زلزے کے بعد کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی ماہانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے امدادی کاموں میں برا اثر پڑ رہا ہے کیوں کہ ان علاقوں کا بذریعہ سڑک رابطہ نہیں ہے ۔ یہ رپورٹ گزشتہ ہفتے شائع ہوئی تھی۔

دگاش اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر تبصرہ کر رہی تھیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ سمیت بعض عالمی غیر سرکاری تنظیموں جن میں مرلن، ڈاکڑز ساں فرنٹیئرز اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کو لائن آف کنڑول کے قریبی علاقوں میں پرواز کے لیئے پاکستانی حکام سے اجازت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

زلزے کے بعد کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی ماہانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے امدادی کاموں پر برا اثر پڑ رہا ہے کیونکہ ان علاقوں کا بذریعہ سڑک رابطہ نہیں ہے ۔ یہ رپورٹ گزشتہ ہفتے شائع ہوئی تھی۔

آٹھ اکتوبر کے زلزے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں غیرملکی امدادی کارکن ، فوجیوں اور صحافیوں نے اس علاقے کا رخ کیا۔ اقوام متحدہ کےاداروں سمیت درجنوں غیر ملکی امدادی اداروں کے کارکن لائن آف کنڑول کے قریبی علاقوں سمیت متاثرہ علاقوں میں ہر جگہ کام کررہے ہیں اور امدادی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کے لائن آف کنڑول کے قریبی علاقوں میں پرواز کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن یہ زلزے کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ اس طرح کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

زلزے سے پہلے کوئی بھی غیر ملکی حکومت پاکستان سے اجازت نامہ حاصل کیئے بغیر کشمیر کے اس علاقے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا اور لائن آف کنڑول کے دس کلومیڑ کے علاقے میں کوئی بھی غیر ملکی نہیں جاسکتا تھا لیکن آٹھ اکتوبر کے بعد حکومت پاکستان نے یہ پابندیاں نرم کردیں تھیں۔ ابھی یہ نہیں معلوم کہ حکومت پاکستان ان پابندیوں کو مستقل طور پر اٹھانا چاہتی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد