’پانچ مقامات کا مقصد فوت ہوگیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی کل جماعتی حریت کانفرنس کے چئرمین میر واعظ عمر فاروق نے لاہور میں کہا ہے کہ زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے دونوں جانب کے کشمیریوں کے میل ملاپ کے لیے کھولے جانے والے پانچ مقامات کا مقصد فوت ہوگیا ہے کیونکہ دہلی حکومت سفری دستاویز دینے میں بہت تاخیر سے کام لیتی ہے۔ میر واعظ پیر کو دلی سے ہوائی جہاز کے ذریعے لاہور پہنچنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ حریت کے دو دوسرے رہنما غنی بھٹ اور بلال لون بھی ان کے ساتھ آئے ہیں۔ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد سات جنوری کو واپس جائیں گے۔ میر واعظ نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد زلزلہ زدہ کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرنا ہے۔ ’اس مقصد کے لیے حریت کے انیس افراد کا وفد آنا چاہتا تھا لیکن انہیں سفری دستاویز نہیں ملیں اور اس کام میں اتنے دن لگ گئے کہ انہوں نے سوچا کہ ہم تین لوگ پاسپورٹ پر لاہور کے راستے مظفرآباد چلے جائیں‘۔ میر واعظ نے کہا کہ زلزلہ کے بعد فائر بندی لائن پر کشمیر کے دونوں طرف کے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے میں سہولت دینے کے لیے جو پانچ مقامات کھولے گئے تھے اس میں بھارت حکومت نے ہٹ دھرمی دکھائی اور لوگوں کو ان مقامات سے آنے جانے کے لیے اجازت لینے میں مہینوں لگتے ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ اب تک ان مقامات سے چالیس پچاس سے زیادہ لوگ آرپار نہیں آجاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ان مقامات سے آنے جانے کے لیے جو اجازت نامہ درکار ہے اس کے لیے پہلے پولیس کی رپورٹ بنتی ہے، پھر سی آئی ڈی کی رپورٹ اور اس شخص کو اپنا پورا شجرہ نسب بتانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ ان پانچ مقامات سے جانے کے بجائے دلی اور لاہور کے راستے مظفرآباد اور چکوٹھی جانے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں اڑی اور ٹنڈا شامل ہیں اور جب وہ ان علاقوں میں گئے تو وہاں لوگوں نے سب سے پہلے یہ بات کی کہ وہ تو خیریت سے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کے لائن کی دوسری طرف ان کے بھائی کس حال میں ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ زلزلہ کی وجہ سے مسئلہ کشمیر میں پوری دنیامیں ایک نئی دلچسپی پیدا ہوئی ہے اور یہ دنیا کے سامنے اجاگر ہوا ہے کہ اس دکھ کی گھڑی میں بھی کشمیر کا ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد نہیں کرسکتا۔ میر واعظ نے کہا کہ زلزلہ کی وجہ سے دنیا کو پتہ چلا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ کے ساتھ ساتھ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے جہاں افراد اور خاندان منقسم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ نے بھارت ارو پاکستان کو ایک موقع فراہم کیا تھا کہ وہ اس مسئلہ کو ایک انسانی مسئلہ کے طور پر لیں اور دونوں طرف کے کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ میر واعظ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں ثقافتی وفود کا تبادلہ ہورہا ہے، کرکٹ ہورہی ہے جو اچھی بات ہے لیکن کشمیر کا ایک بھائی دوسرے بھائی سے نہیں ملک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد دنیا کی اس طرف توجہ دلانا ہے اور وہ زور دیں گے کہ کشمیر میں دونوں طرف کی دوریاں ختم ہوں، مصنوعی لکیریں ختم ہوں اور دیواریں ختم ہوں۔ میر واعظ نے کہا کہ حریت کانفرنس کو مسئلہ کشمیر کا وہی حل قابل قبول ہوگا جس میں پوری ریاست جموں کشمیر شامل ہو اور ایسا حل قابل قبول نہیں جو اس کے صرف ایک حصہ کے بارے میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کے عوام کا مسئلہ ہے اور کوئی بھی حل کشمیریوں کے جذبات اور احساسات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی متحدہ ہائے ریاست کشمیر کی تجویز انیس سو پچاسی چھیاسی سے چل رہی ہے اور یہ کشمیر پر ایک نئی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداوں سے تو کشمیر کے مسئلہ کو قانونی جواز ملتا ہے لیکن اقوام متحدہ تو کشمیر کے مسئلہ کے حل میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہو ں نے کہا اس لیے ان قراردادوں کی بنیاد پر مختلف تجویزوں پر بات ہوسکتی ہے۔ میر واعظ نے کہاکہ حریت کا موقف ہے کہ کشمیر کا کوئی ایسا حل قبول نہیں جس میں موجودہ سیز فائر لاین کو مستقل سرحد بنادیا جائے یا حالات کو جوں کا توں رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان دو باتوں کے علاوہ ایسے فارمولوں اور تجاویز پر بات ہوسکتی ہے جن میں کشمیریوں کے مفادات پورے ہوتے ہوں اور بھارت اور پاکستان کے اندیشوں کو بھی دور کیا جائے۔ میر واعظ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کی تجویز ابھی شروعات کے مراحل میں ہیں اور اس پر حریت کانفرنس میں بھی بات ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا جب کسی تجویز کا خاکہ مکمل ہوجائے تو اس پر باضابطہ بات چیت ہوسکتی ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ کشمیر کے دونوں طرف کی قیادت کو بات چیت کرنے کے لیے مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ مل کر حکمت عملی طے کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے کشمیریوں پر آنے جانے کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں۔ میر واعظ نے کہا کہ نئی دہلی کی حکومت کشمیر کے مسئلہ کے حل میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی۔ ’اس کی وہاں پانچ لاکھ فوج بیٹھی ہے تو وہ نئی تجویز کیوں دے’۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر لچک دکھانے سے عالمی سطح پر بھارت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے کہا جارہا ہے کہ وہ اگر ان تجاویز سے اتفاق نہیں کرتا تو اپنی تجاویز دے۔ |
اسی بارے میں کچھ کشمیری ایل او سی پار کریں گے17 November, 2005 | پاکستان ’کوئی شرط نہیں، بس جانے دیں‘31 October, 2005 | پاکستان پیشکش خوش آئند ہے: میر واعظ18 October, 2005 | پاکستان کشمیری رہنماؤں کی کامیاب واپسی 18 June, 2005 | پاکستان ’سرحدوں کے کوئی معنی نہیں‘09 June, 2005 | پاکستان ’متبادل تجاویز پر غور کرسکتے ہیں‘08 June, 2005 | پاکستان کشمیری رہنماوں کا دورۂ لاہور06 June, 2005 | پاکستان ’ کشمیریوں کی شمولیت ضروری ہے‘02 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||